خطبات محمود (جلد 19) — Page 279
خطبات محمود ۲۷۹ سال ۱۹۳۸ء اسی طرح حکومت اور دبدبہ اور شوکت بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے بہت بڑی نعمتیں ہیں مگر بعض حالات میں جیسے آجکل کا زمانہ ہے یہ بھی مسلمانوں کی نسبت کفار کو زیادہ حاصل ہوتی ہیں۔پس کج معلوم ہوا کہ را هدنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ : میں جن انعامات کا ذکر ہے وہ بعض مخصوص قسم کے انعامات ہیں جو صراط مستقیم کے ساتھ تخصیص رکھتے ہیں اور جب تک انسان صراط مستقیم پر قائم نہیں ہوتا وہ انعامات حاصل نہیں ہوتے۔گویا دو قاعدے ہیں جو اس آیت سے ثابت ہوتے ہیں۔اوّل یہ کہ ہر مؤمن کیلئے منعم علیہ ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ تسلیم کرنا کہ کوئی شخص مؤمن تو ہے مگر اسے صراط مستقیم نہیں ملا بالکل غلط بات ہوگی۔اور اس فقرہ کو اگر ہم سادہ اردو میں بیان کریں تو یوں بنے گا کہ فلاں شخص بڑا مؤمن ہے مگر اللہ تعالیٰ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔اب کیا کوئی شخص مان سکتا ہے کہ کوئی شخص مومن بھی ہو اور خدا تعالیٰ سے اس کا تعلق بھی نہ ہو۔جب صراط مستقیم کے معنے اللہ تعالیٰ سے تعلق کے ہی ہیں تو کی یہ کہنا کہ فلاں مؤمن ہے مگر اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق نہیں، بیہودہ بات ہو گی۔جو بھی مؤمن ہوگا خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کا ضرور تعلق ہو گا۔پس اهدنا الصراط المستقيم میں در حقیقت حصول ایمان کے متعلق یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ اے خدا ! ہمارے ایمان کو کامل کر اور ہمیں منعم علیہ گروہ میں شامل فرما۔گویا منعم علیہ گروہ میں شامل ہونا ایمان کے کمال کی ایک علامت ہے اور ایمان کے کمال کے دوسرے معنے منعم علیہ گروہ میں شامل ہونے کے ہیں۔پس ہر مؤمن اپنے اپنے درجہ کے مطابق منعم علیہ گروہ میں شامل ہے۔دوسرے یہ کہ جو انعام اِس جگہ مذکور ہے وہ ایسا نہیں جیسے دنیوی رتبے یا جائدادیں ہوتی ہیں۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں مگر اس درجہ کی نہیں جس درجہ کی نعمتوں کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔یہ دنیوی نعمتیں اُن روحانی نعمتوں کی محض توابع ہیں۔جیسے آقا کے ساتھ خادم ہوتے ہیں اسی طرح روحانی نعمتوں کے ساتھ یہ بطور خادم ہوتی ہیں۔آخر جس انسان کو اللہ تعالیٰ جہاد کی توفیق دے گا اُسے دولت بھی بخشے گا ، اُسے فتح بھی دے گا ، اُسے مال غنیمت بھی عطا کرے گا۔مگر یہ ادنی چیزیں اُس کا مقصود نہیں ہوں گی ، یہ ادنی انعمتیں ہیں جو اُسے حاصل ہوں گی ورنہ اس کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو گی جو بہت بڑی چیز ہے۔اس کی کی