خطبات محمود (جلد 19) — Page 28
خطبات محمود ۲۸ سال ۱۹۳۸ء بن جاتا ہے۔اگر ہماری جماعت غلط خیالات پر مُصر نہ رہے، قرآن کریم کی تعلیم کے متعلق یہ نہ کہے کہ وہ ہے تو بہت اچھی مگر اس سے ہر موقع پر گزارہ نہیں ہوسکتا بلکہ اسے ہر حال میں قائم کرے اور اس پر عمل کرے اور اس طرح دنیا کو اسے دیکھنے کا موقع دے۔تو چونکہ وہ بہت اچھی تعلیم ہے دیکھنے والوں کے دل میں خود بخود یہ خیال پیدا ہو گا کہ ہمیں بھی اسے اختیار کرنا چاہئے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں بعض چیزیں اخلاق کے لحاظ سے سخت مضر ہوتی ہیں ، بعض صحت کے لحاظ سے مضر ہوتی ہیں مگر چونکہ وہ بظاہر اچھی نظر آتی ہیں اس لئے لوگ خود بخود انہیں اختیار کرتے جاتے ہیں۔بھلا کوئی مبلغ کسی جگہ لوگوں کو یہ تلقین کرنے کیلئے گیا ہے کہ مانگ نکالا کرو مگر دیکھ لو ماں باپ بھی سمجھاتے ہیں، استاد بھی منع کرتے ہیں اور لوگ بھی کہتے رہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں مرد بنایا ہے یہ عورتوں والی ہیئت کیوں بناتے ہومگر آجکل کے لڑکے ہیں کہ اس سے کسی صورت نہیں رکھتے۔جس کے پاس کوئی اعلیٰ قسم کا تیل نہ ہو وہ بازار سے ایک پیسے کا کڑوا تیل ہی لے آئے گا اور ٹوٹی ہوئی کنکھی کے ساتھ ٹیڑھی مانگ نکال کر اس طرح اکٹر اکٹر کر چلے گا کہ گویا بادشاہ نے اُسے وزیر اعظم مقرر کر دیا ہے۔پھر کبھی کسی نے دیکھا ہے کہ لیکچرار لیکچر دیتے پھر تے ہوں کہ داڑھیاں منڈواؤ۔مگر جب ایک ہندوستانی نوجوان ایک انگریز کو دیکھتا ہے کہ ڈاڑھی منڈائے ہوئے اور پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈال کر پھر رہا ہے تو وہ خود بخود چاہتا ہے کہ میں محمد ابراہیم نہ رہوں بلکہ ٹامسن ہو جاؤں۔کیونکہ وہ عزت والا ہے اور اس کی نقل کرنے سے میں بھی شاید عزت والا سمجھا جانے لگوں۔اور اسے اگر سیفٹی ریز رنصیب نہ ہو تو وہ دیسی گند اُسترے سے اپنی ٹھوڑی پر خواہ دس زخم کیوں نہ کرے لیکن بال ضرور نوچ ڈالے گا۔تا وہ بھی مسٹر ٹامسن معلوم ہو کیونکہ اسے اس میں ایک خوبصورتی نظر آتی تھی۔چونکہ اسے اپنی کی مرعوب شدہ آنکھوں سے وہ دیکھتا ہے۔مسٹر ٹامسن خوبصورت نظر آتا ہے اس لئے جھٹ اُس کی نقل کرتا ہے۔سو تم اگر اسلام کی تعلیم کو عملی طور پر دنیا کے سامنے پیش کرو، خدا تعالیٰ کی صفات کو کی پیش کرو تو کیا تم سمجھتے ہو کہ لوگ انہیں اختیار نہ کریں گے اور تمہاری نقل نہ کرنے لگیں گے ! مجھے انہی دنوں یورپ سے ایک مبلغ کی چٹھی آئی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ میری ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جو روسی نظام حکومت کا قائل تھا اور خیال رکھتا تھا کہ اس کو قائم کئے بغیر