خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 27

خطبات محمود ۲۷ سال ۱۹۳۸ ایسے ملک میں دینی تعلیم کا انتظام نہیں ہو سکتا۔روس میں پادری شور مچارہے ہیں کہ ہمیں مذہبی تعلیم کی اجازت نہیں دی جاتی مگر حکومت کہتی ہے کہ بائبل کی تعلیم دینا کسی کیلئے روٹی کے سوال کو حل نہیں کرتا اس لئے ہم تم کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ ایک شخص کو نا کارہ بنادو۔ایسی تعلیم جوان ہونے کے بعد دی جاسکتی ہے۔ہمیں تو ایسے آدمی کی ضرورت ہے جو زیادہ سے زیادہ روپیہ تجارت اور صنعت و حرفت کے ذریعہ دوسرے ممالک سے کھینچ سکے۔اب دیکھوا گر کوئی ایسی ہی حکومت یہاں ہوتی تو ہم نہ احمد یہ سکول جاری کر سکتے تھے اور نہ مبلغین کے لئے جامعہ احمدیہ کے ذریعہ تعلیم کا انتظام کر سکتے تھے۔حکومت سب کو جبراً سرکاری سکولوں میں تعلیم دلاتی اور م کیلئے کوئی موقع نہ رہتا۔سوائے اس کے کہ گریجوایٹ بن جانے کے بعد پھر نو جوانوں کی دینی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جاتا لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ ہندوستان میں بھی یہ آزادی کب تک قائم رہے۔اب یہاں ملکی حکومت قائم ہو رہی ہے اور بعض وزراء نے اپنی تقریروں میں ان خیالات کا اظہار کیا ہے کہ پرائیویٹ مدر سے بند کر دینے چاہئیں۔پس پیشتر اس کے کہ وہ کی دن آئیں یا ان کے آنے میں ہم روک بننے کے اہل نہ رہ سکیں ہمیں اسلامی تعلیم کو اس طرح کی اپنے اندر قائم اور جاری کر لینا چاہئے کہ اگر دینی سکول تو ڑ بھی دیئے جائیں تو ہر احمدی اپنی جگہ پر پروفیسر اور فلاسفر ہو جو اپنے بچوں کو گھر میں وہی تعلیم دے جو ہم نے سکولوں میں دینی ہے۔اس وقت جو بچے ہیں وہ اپنی ماؤں سے اور باپوں سے اور بھائیوں بہنوں سے وہی باتیں سنیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے نکلی ہیں۔اس طرح وہ وقت جو بچوں کو گھر میں والدین کے پاس رہنے کیلئے ملتا ہے، اسی میں ان کی دینی تعلیم و تربیت ہو سکے گی۔ماں باپ سے ملنے کا وقت بچوں کو سخت سے سخت حکومتوں کے ماتحت بھی ملتا ہے۔حتی کہ روس میں بھی جہاں بہت پابندیاں ہیں، والدین سے بچوں کو ملنے کی اجازت ہے۔پس اگر کوئی ایسا وقت آبھی جائے جب دینی تعلیم کا انتظام حکومت ہمیں کرنے نہ دے۔اُس وقت وہ وقت جو بچے والدین کے پاس گزاریں ان کی دینی تعلیم کو مکمل کرنے کا ذریعہ بن جائے۔اس کے علاوہ علم النفس کا بھی ایک نکتہ ہے جسے ہم کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔جب کسی قوم کے اندر کوئی اچھی تعلیم قائم ہو جائے تو وہ بجائے خود ایک خاموش تبلیغ کا ذریعہ