خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 278

خطبات محمود ۲۷۸ سال ۱۹۳۸ء نازل ہوئیں۔اس سے دو باتیں نہایت واضح طور پر ثابت ہوتی ہیں۔ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر مؤمن کو منعم علیہ بنانا چاہتا ہے۔اپنے اپنے درجہ اور مقام کے مطابق کسی کو زیادہ اور کسی کو کم۔جیسے سکولوں میں انعامات تقسیم ہوتے ہیں تو جماعت کے فرق کے لحاظ سے کسی کو تھوڑا انعام ملتا ہے اور کسی کو بہت۔جو پرائمری میں اول رہتا ہے اسے بھی انعام ملتا ہے، جو مڈل میں اول رہتا ہے اسے بھی انعام ملتا ہے اور جو انٹرنس کے امتحان میں یو نیورسٹی بھر میں اول نکلتا ہے اسے بھی انعام کے طور پر وظیفہ ملتا ہے۔اور ایف اے اور بی اے میں اول رہنے والوں کو بھی وظائف ملتے ہیں۔مگر سارے وظائف ایک مقدار کے نہیں ہوتے۔پرائمری میں اول رہنے والے یا ضلع بھر میں اول نکلنے والے کو جو وظیفہ ملتا ہے وہ پانچ سات روپے کا ہوتا ہے اور انعام میں اسے جو چیزیں ملتی ہیں وہ بھی دو چار روپے کی ہوتی ہیں۔لیکن انٹرنس کے امتحان میں تمام یو نیورسٹی میں اول رہنے والے کو میں چھپیں بلکہ تمیں روپیہ تک کا وظیفہ مل جاتا ہے اور ایف اے اور بی اے میں جو اول نکلتے ہیں انہیں تو اس سے بھی زیادہ وظیفہ اور انعام ملتا ہے۔تو گو منعم علیہ سارے ہی ہیں اس پر بھی انعام ہو ا جو پرائمری میں اول رہا اور اسے بھی انعام ملا جو بی اے میں اول رہا۔مگر انعاموں میں فرق ہے۔ایک کو اعلیٰ درجے کا انعام ملا اور ایک کو کم درجے کا۔تو ایک بات اس دعا میں یہ بتائی گئی ہے کہ جو مؤمن ہو گا وہ ضرور منعم علیہ ہو گا ورنہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو یہ دعا کبھی نہ سکھائی جاتی۔دوسری بات جس کا اس جگہ سے پتہ چلتا ہے یہ ہے کہ اس جگہ منعم علیہ کے لفظ سے دنیا کے عام انعام مراد نہیں۔اول تو اس لئے کہ وہ ہر ایک کو نصیب ہیں۔مثلاً آنکھیں اللہ تعالیٰ کا ایک انعام ہیں مگر کیا یہ انعام کا فروں کو حاصل نہیں؟ کیا ہندوؤں کی آنکھیں نہیں ؟ کیا سکھوں ، عیسائیوں اور دہریوں کی آنکھیں نہیں ؟ یا کان اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں مگر کیا یہ کافروں کو نہیں ملے ہوئے؟ یا ہاتھ پاؤں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں مگر کیا کفار کے ہاتھ پاؤں نہیں ؟ یا د نیوی دولت ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے مگر کیا یہ نعمت ان کو میسر نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں اور مومنوں کی نسبت کا فر ہزار درجے زیادہ امیر ہیں۔یا اگر عمارتوں اور مکانوں کا ہونا اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے تو یہ نعمت بھی ان کو حاصل ہے بلکہ مؤمنوں سے زیادہ حاصل ہے۔