خطبات محمود (جلد 19) — Page 26
خطبات محمود ۲۶ سال ۱۹۳۸ء اور ایسے حاکم دیئے ہیں جن کے ملک کا دستور یہ ہے کہ وہ انفرادی آزادی میں کم سے کم دخل ہے دیتے ہیں۔دنیا میں بعض حکومتیں ایسی ہیں جو افراد کے معاملہ میں زیادہ سے زیادہ دخل دیتی ہیں تا اصلاح ہو۔وہ کہتی ہیں کہ جب ایک بات میں ملک کا فائدہ ہے تو کیوں لوگوں کو طاقت سے اس پر کار بند نہ کیا جائے۔مگر بعض دوسری حکومتوں کا اصول یہ ہے کہ جب تک انفرادی معاملات میں کم سے کم دخل نہ دیا جائے ، افراد کی قوت قائم نہیں رہ سکتی اور ان کی ذہنی ترقی رُک جاتی ہے اور لوگ محض ایک مشین بن کر رہ جاتے ہیں اور انگریزوں کی قوم اس آخری اصول کی کی کار بند ہے۔اس کے برخلاف جرمن حکومت کا اصول یہ ہے کہ جب ایک بات مفید ہے تو اس کی بات کا انتظار کیوں کیا جائے کہ لوگ اس کے ذریعہ خود اپنی اصلاح کرلیں گے اور اپنے اپنے طور پر کوشش کر کے اس پر کار بند ہو جائیں گے۔کیوں نہ حکومت خودا سے قائم کر دے اور جتنا چاہے دخل دے دے۔اور اسلامی ترقی کیلئے ہندوستان میں زیادہ مفید وہی حکومت ہو سکتی تھی جو کم سے کم دخل دے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں انگریزی حکومت کو قائم کر دیا۔ہندوستان میں اس کے بجائے اگر کوئی اور حکومت ہوتی تو یہ تو ممکن تھا کہ ہندوستان دیگر لحاظ سے بہت ترقی کرتا۔یہاں کی اقتصادی حالت اچھی ہوتی یا تجارت ترقی کرتی۔یا یہ کہ آج ہندوستان میں زیادہ کارخانے ہیں، اس سے کئی گنا زیادہ کارخانے ملک میں گھل جاتے۔جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کہ انگریزی حکومت نے دو سو سال میں ہندوستان میں اتنا کام نہیں کیا جتنا اٹلی نے دو سال کے عرصہ میں حبشہ میں کیا ہے۔پس اگر کوئی اور حکومت یہاں ہوتی تو ممکن ہے بعض اور لحاظ سے ہندوستان کو زیادہ ترقی حاصل ہو جاتی مگر قومی اور شخصی اصلاح کے کاموں میں وہ آزادی ہرگز نه ملتی جو انگریزی حکومت کے ماتحت اُسے حاصل ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ ہم اسلامی تعلیم کے قیام کے دائرہ کو بہت وسیع کر سکتے ہیں اور اگر ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھی ہم ان کو قائم کی نہ کریں تو یہ ایک بہت بڑی حماقت ہوگی۔انگریزی حکومت میں پرائیویٹ مدر سے جاری کرنے کی اجازت ہے مگر جرمنی میں نہیں۔وہاں سب کو سرکاری مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ