خطبات محمود (جلد 19) — Page 259
خطبات محمود ۲۵۹ سال ۱۹۳۸ء کہ ناظر شوری کے فیصلوں پر پوری طرح عمل نہیں کرتے اور واقعات اس بات کو پوری طرح ثابت کرتے ہیں کہ وہ ان پر خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ یہ کیا جاتا ہے کہ سال کے آخر پر ناظر اعلیٰ دوسری نظارتوں سے پوچھ لیتا ہے کہ ان فیصلوں کا کیا حال ہوا۔اور پھر یا تو یہ کہ دیتا ہے کہ کوئی جواب نہیں ملا اور یا یہ کہ کوئی عمل نہیں ہوا۔میں یہ بھی مان لیتا ہوں کہ بعض فیصلے ناظروں کے نزدیک نا قابل عمل ہوتے ہیں مگر ایسے فیصلوں کو قانونی طور پر بدلوانا چاہئے۔وہ ایسے فیصلوں کو میرے سامنے پیش کر کے مجھ سے بدلوا سکتے ہیں۔وہ میرے سامنے پیش کر دیں میں اگر چاہوں تو دوسری شوری بلوالوں یا چاہوں تو خود ان فیصلوں کو رڈ کر دوں۔اور پھر اگر دوسری شوریٰ میں ان پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ان پر اعتراض ہو تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ فیصلہ رڈ ہو چکا ہے۔لیکن اگر وہ فیصلہ جوں کا توں قائم رہے اور پھر وہ اس پر عمل نہ کریں تو جماعت کے اندر بے انتظامی اور خود رائی کی ایسی روح پیدا ہوتی ہے جس کی موجودگی میں ہرگز کوئی کام نہیں ہوسکتا۔اگر شوری میں ایک فیصلہ ہوتا ہے تو ان کا فرض ہے کہ اس پر عمل کریں اور اگر وہ اس کی کو قابل عمل نہیں سمجھتے تو اس کو منسوخ کرائیں لیکن ایسے فیصلوں کی ایک کافی تعداد ہے جن پر کوئی عمل نہیں کیا جاتا۔مثلاً اسی شوری میں ایک سوال پیدا ہوا تھا جس سے جماعت میں جوش پیدا ہوا۔۱۹۳۰ء کی شوریٰ میں فیصلہ ہوا تھا کہ سلسلہ کے اموال پر وظائف کا جو بوجھ ہے اسے ہلکا کرنا چاہئے۔یہ تو صحیح ہے کہ جس احمدی کے پاس روپیہ نہ ہو وہ مستحق ہے کہ اپنے بچوں کی تعلیم کیلئے انجمن سے مدد مانگے اور اگر انجمن کے پاس ہو تو اس کا فرض ہے کہ مدد کرے مگر اس طرح کی مدد لینے والے کا یہ بھی فرض ہے کہ جب وہ مالدار ہو جائے تو پھر اسے ادا کرے۔۱۹۳۰ء کی شوری میں یہ فیصلہ ہو ا تھا کہ آئندہ پانچ سال میں گزشتہ تعلیمی وظائف کی رقوم وصول کی جائیں اور پھر آئندہ اسی رقم میں سے وظائف دیئے جائیں ، عام آمد سے امداد نہ کی جائے اور اس کیلئے ناظر بیت المال کو ذمہ دار مقرر کیا گیا تھا۔یہ پانچ سال ۱۹۳۵ء میں پورے ہوتے تھے اور ۱۹۳۵ء کے بعد وظائف اسی وصول شدہ رقم میں سے دیئے جانے چاہئیں تھے لیکن تین سال ہو چکے ہیں مگر وظائف برا برخزانہ سے ادا کئے جارہے ہیں۔شوری کے ممبروں میں سے ایک کو یہ بات یاد آئی اور اُس نے اعتراض کر دیا کہ جب یہ فیصلہ ہوا تھا تو اس پر کیا کارروائی کی گئی