خطبات محمود (جلد 19) — Page 258
خطبات محمود ۲۵۸ سال ۱۹۳۸ء اور سب یہ سمجھتے تھے کہ یہ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں غلط کہہ رہے ہیں اور جوش میں انہیں اپنی زبان کی پر قابو نہیں رہا اور ظاہر ہے کہ ایسی بات کی تردید کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔چنانچہ میں نے اس کی تردید نہ کی اور میں سمجھتا ہوں تردید نہ کرنے سے لوگوں نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ باتیں وزنی ہیں بلکہ غالب حصہ کو یہی یقین تھا کہ یہ تردید کے قابل ہی نہ تھیں۔کیونکہ دوست خود اُن کی باتوں پر ہنس رہے تھے اور بعض کے بننے کی آواز میں نے خود سنی اور ہنسی کی وجہ یہ خیال تھا کہ انہوں نے کیا بے معنی نتیجہ نکالا ہے۔اور جب جماعت پر ان کی بات کا اثر ہی نہ تھا اور سب سمجھ رہے تھے کہ یہ اپنی سادگی اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے یہ باتیں کر رہے ہیں تو ان کی تردید نہ کرنے سے نقصان کیا ہوسکتا تھا لیکن اس کے بالمقابل اسی مجلس شوری میں میں نے ایک مثال سنائی تھی کہ ایک انجمن نے جو کسی گاؤں یا شہر کی انجمن نہ تھی بلکہ پراونشل انجمن تھی ، مجھے لکھا کہ ہم نے صدر انجمن کو یہ بات لکھی ہے جو اگر اس نے نہ مانی تو اس کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے نہیں رہیں گے۔میں نے انہیں لکھا کہ صدر انجمن جو کچھ کرتی ہے چونکہ وہ خلیفہ کے ماتحت ہے اس لئے خلیفہ بھی کی اس کا ذمہ دار ہوتا ہے اور جب آپ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ کی بات نہ مانی گئی تو صدرانجمن کے ساتھ آپ کے تعلقات اچھے نہ رہ سکیں گے تو ساتھ ہی آپ نے یہ بھی سوچ لیا ہوگا کہ خلیفہ کے ساتھ بھی آپ کے تعلقات اچھے نہ رہیں گے اور اس صورت میں آپ کو نئی جماعت ہی بنانی پڑے گی، اس جماعت میں آپ نہیں رہ سکیں گے۔تو کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ اس بات کے سننے کے بعد بھی کسی احمدی کے دل میں ناظروں کا رُعب مٹ سکتا ہے۔یہ کیونکر ممکن ہے کہ شوری کے ممبروں نے ناظروں کے کام پر تنقید کو تو سُن لیا مگر یہ بات انہوں نے نہ سنی ہوگی اور یہ بات جو میں نے ایک دو آدمیوں کو نہیں بلکہ ایک صوبہ کی انجمن کو لکھی تھی اس کے سننے کے بعد کس طرح ممکن ہے کہ ناظروں کا رُعب مٹ جائے۔اس میں شبہ نہیں کہ اس شوری میں جرح زیادہ ہوئی ہے۔مگر ناظروں کو بھی ٹھنڈے دل کے ساتھ یہ سوچنا چاہئے کہ ایسا کیوں ہوا۔ایسا اس وجہ سے نہیں ہوا کہ میں نے بھی ان پر تنقید کی نمی۔جب وہ چھپے گی تو ہر شخص دیکھ سکے گا کہ شوری کے ممبروں نے جو جرح کی وہ میری تنقید کے نتیجہ میں نہ تھی اور حق بات یہ ہے کہ جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور جس کا مجھے شدید احساس ہے