خطبات محمود (جلد 19) — Page 257
خطبات محمود ۲۵۷ سال ۱۹۳۸ء بحث شروع کر دیں کہ کیوں اس میں بستر بچھانا چاہئے اور دوسرے میں بیٹھنا اُٹھنا چاہئے تو یہ بحث خواہ مہینوں کرتے رہیں نتیجہ کچھ نہ ہوگا۔تو اس قسم کی ذوقی باتوں کو چھوڑ کر باقی باتوں کو ثابت یارڈ کیا جاسکتا ہے اور اگر اعتراض نامناسب رنگ میں ہوگا تو یا تو وہ کسی معذور کی طرف سے ہوگا جو بوجہ بڑھاپے کے یا نا تجربہ کاری یا سادگی کے ایسا کرے گا اور اس صورت میں سب محسوس کر لیں گے کہ اس شخص کے الفاظ کی کوئی قیمت نہیں اور اس کو روکنا فضول ہوگا۔ایسی بات پر صرف مسکرا کر یا استغفار کر کے گزر جانا ہی کافی ہو گا لیکن اگر ایسا نہ ہو تو مجلس شوری کی رپورٹیں اس پر گواہ ہیں کہ میں نے نامناسب رنگ میں اعتراض کرنے والوں کو ہمیشہ سختی سے روکا ہے اور جنہوں نے غلط تنقید کی ان کو اس پر تنبیہہ کی ہے اور اگر آئندہ بھی ایسا ہوگا تو اِنْشَاءَ اللہ روکوں گا۔اگر ساری جماعت بھی غلط تنقید کرے گی تو اسے بھی روکوں گا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ڈروں گا نہیں۔اس قسم کا لحاظ میں نے کبھی نہیں کیا کہ غلط طریق اختیار کرنے پر کسی کو تنبیہہ نہ کروں۔ہاں اس وجہ سے چشم پوشی کرنا کہ کام کرنے والوں سے غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں ، اور ی بات ہے۔ایسی چشم پوشی میں جماعت سے بھی کرتا ہوں اور کارکنوں سے بھی۔ورنہ میں نہ جماعت سے ڈرتا ہوں اور نہ انجمن سے۔اور جب بھی میں نے موقع دیکھا ہے جماعت کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلائی ہے اور انجمن کو بھی۔اس سوال کا تیسرا حصہ جو پہلے سے ملتا جلتا بھی ہے اور علیحدہ سوال بھی۔وہ یہ ہے کہ تنقید ایسے رنگ میں کی جاتی ہے کہ جس سے ناظروں کی بے رُعبسی ظاہر ہوتی ہے لیکن میں اس سے بھی متفق نہیں ہوں۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے دین کے کام کیلئے کھڑے ہوں ان کی بے رُعبی نہیں ہو سکتی۔جب تک جماعت میں اخلاص اور ایمان باقی ہے کوئی ان کی بے رعبی نہیں کر سکتا۔ان کے ہاتھ میں سلسلہ کا کام ہے۔پس جو ان کی بے رُعبی کرے گا یہ سمجھ کر کرے گا کہ اس سے سلسلہ کی بے رُعبی ہوگی اور اس کیلئے کوئی مخلص مؤمن تیا ر نہیں ہو سکتا۔ہاں بعض دفعہ بعض لوگ نادانی سے ایسا کر جاتے ہیں مثلاً اس دفعہ ہی سرگودھا کے ایک دوست نے نامناسب الفاظ استعمال کئے لیکن میں بھی اور دوسرے دوست بھی محسوس کر رہے تھے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ یہ باتیں نہیں کر رہے۔اور میں نے دیکھا ہے کہ ان کی باتوں پر دوست بالعموم مسکرا رہے تھے