خطبات محمود (جلد 19) — Page 245
خطبات محمود ۲۴۵ سال ۱۹۳۸ ء وہ بچوں کو اپنی نگرانی میں کھلا ئیں ، انہیں وقت ضائع کرنے سے بچائیں ، نمازوں کیلئے با قاعدہ لے جائیں اور اخلاق فاضلہ ان میں پیدا کریں ۔ اور گو تفصیلی طور پر تمام اخلاق کا پیدا کرنا ہی ضروری ہے مگر یہ تین باتیں خاص طور پر ان میں پیدا کی جائیں ۔ یعنی نمازوں کی باقاعدگی کی عادت، سچ کی عادت اور محنت کی عادت ۔ باقی ہمارے ملک میں بعض اور بھی اخلاقی خرابیاں ہیں جن کا دور کرنا ضروری ہے ۔ مثلاً ہمارے ملک میں گالی دینے کا عام طور پر رواج ہے اور اس میں شرم و حیا سے کام نہیں لیا جاتا۔ مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کو جب چوٹ لگی تو مرہم پٹی کرنے کیلئے ایک مخلص دوست مقرر تھے مگر اُن کی زبان پر بہن کی گالی بہت چڑھی ہوئی تھی ۔ ایک دن جبکہ حضرت خلیفہ اول کے پاس ہم سب بیٹھے ہوئے تھے اور باہر سے بھی کچھ مہمان آئے ہوئے تھے ایک دوست نے برسبیل تذکرہ دریافت کیا کہ ابھی حضرت صاحب کا زخم اچھا نہیں ہوا ؟ اس پر وہ بے اختیار زخم کو بہن کی گالی دے کر کہنے لگے یہ اچھا ہونے میں آتا ہی نہیں ۔ حضرت خلیفہ اول اُس وقت سامنے بیٹھے تھے اور باقی سب دوست بھی موجود تھے ۔ اُن کے منہ سے جب اس مجلس میں یہ گالی نکلی تو ہم سب پر ایک سکتے کی حالت طاری ہو گئی مگر پھر ہم یہی سمجھ کر خاموش ہور ہے کہ ان بیچاروں کو اس گالی کی عادت پڑی ہوئی ہے۔ تو گالی دینے کی عادت ہی جب کسی شخص میں پیدا ہو جاتی ہے اُس کا مٹانا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح اور کئی قسم کی بُری عادتیں ہیں جو ہمارے ملک میں لوگوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔ ان عادتوں کو مٹا کر ان کی جگہ اگر نیک عادتیں پیدا کر دی جائیں تو لازماً قوم کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ پس مجلس خدام الاحمدیہ کے ارکان کا صرف یہی فرض نہیں کہ وہ نو جوانوں کی اصلاح کریں بلکہ ان کا ایک فرض یہ بھی ہے کہ وہ بچوں کی اصلاحی شاخ الگ قائم کریں اور اس کے ذریعہ جو چھوٹی عمر کے بچے ہیں اُن کی تربیت کریں۔ میں اس کیلئے بھی اِنْشَاءَ اللہ تعالیٰ انہیں قواعد تیار کر دوں گا۔ سر دست جو تین باتیں میں نے بتائی ہیں ان پر انہیں عمل کرنا چاہئے ۔ یعنی بچوں ۔ میں نماز کی عادت ، سچ کی عادت اور محنت کی عادت پیدا کرنی چاہئے ۔ محنت کی عادت ات پیدا کرنی جائے۔ محنت کی عاد کی عادت پیدا کر لی چلاجائے۔ محنت کی عادتے میں آوارگی سے بچنا خود آجاتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہاں کی مجلس خدام الاحمد یہ بھی