خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 244

خطبات محمود ۲۴۴ سال ۱۹۳۸ء ایک شاخ ایسی بھی کھولی جائے جس میں پانچ چھ سال عمر کے بچوں سے لے کر ۱۵ ، ۱۶ سال کی عمر تک کے بچے شامل ہو سکیں۔یا اگر کوئی اور حد بندی تجویز ہو تو اُس کے ماتحت بچوں کو کی شامل کیا جائے۔بہر حال بچوں کی ایک الگ شاخ ہونی چاہئے اور ان کے الگ نگران مقرر ہونے چاہئیں مگر یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ ان بچوں کے نگران نو جوان نہ ہوں بلکہ بڑی عمر کے لوگ ہوں۔پس خدام الاحمدیہ کو اس مقصد کے ماتحت اپنے اندر کچھ بوڑھے نو جوان بھی شامل کرنے چاہئیں یعنی ایسے لوگ جن کی عمریں گو زیادہ ہوں مگر ان کے دل جوان ہوں اور وہ خدمت دین کے لئے نہایت بشاشت اور خوشی سے کام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ایسے لوگوں کے سپر د بچوں کی نگرانی کی جائے اور ان کے فرائض میں یہ امر داخل کیا جائے کہ وہ بچوں کو پنجوقتہ نمازوں میں با قاعدہ لائیں۔سوال و جواب کے طور پر دینی اور مذہبی مسائل سمجھا ئیں ، پریڈ کرائیں اور اسی کی طرح کے اور کام ان سے لیں جن کے نتیجہ میں محنت کی عادت ، سچ کی عادت اور نماز کی عادت ان میں پیدا ہو جائے۔اگر یہ تین عادتیں ان میں پیدا کر دی جائیں تو یقیناً جوانی میں ایسے بچے بہت کارآمد اور مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔پس بچوں میں محنت کی عادت پیدا کی جائے ، سچ بولنے کی عادت پیدا کی جائے اور نمازوں کی باقاعدگی کی عادت پیدا کی جائے۔نماز کے بغیر اسلام کوئی چیز نہیں اگر کوئی قوم چاہتی ؟ ہے کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں میں اسلامی روح قائم رکھے تو اس کا فرض ہے کہ اپنی قوم کے ہر بچہ کو نماز کی عادت ڈالے۔اسی طرح سچ کے بغیر اخلاق درست نہیں ہو سکتے۔جس قوم میں سچ نہیں اس قوم میں اخلاق فاضلہ بھی نہیں اور محنت کی عادت کے بغیر سیاست اور تمدن کوئی چیز نہیں۔جس قوم میں محنت کی عادت نہیں اس قوم میں سیاست اور تمدن بھی نہیں۔گویا یہ تین معیار ہیں جن کے بغیر قومی ترقی نہیں ہوتی۔پس خدام الاحمدیہ کے ارکان کو چاہئے کہ اپنی ایک شاخ بچوں کی بھی قائم کریں مگر ان کے نگران ایسے لوگ مقرر کریں جو کم سے کم چالیس سال کے ہوں اور بہتر ہوگا اگر وہ اس سے بھی زیادہ عمر کے ہوں اور اپنے اندر ہمت اور استقلال رکھتے ہوں ، ان کے سپرد یہ کام کیا جائے کہ