خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 205

خطبات محمود ۲۰۵ سال ۱۹۳۸ لے آئے گا۔اس کے معنے یہی ہیں کہ اگر تمہارے دل میں ایمان ہو تو خدا تعالی تمہیں خود اس کام پر مقرر کرے جس کے تم اہل ہو۔تمہیں خود کسی عہدہ کی خواہش نہیں کرنی چاہئے۔تو وہ لوگ جو خدمت خلق کو اپنا مقصود قرار دیتے ہیں وہی ہر قسم کی عزت کے مستحق ہیں۔پھر اگر خدا تعالیٰ تمہیں خود مخدوم بنا نا چا ہے تو ساری دنیا مل کر بھی اس میں روک نہیں بن سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو خدا تعالیٰ کے مسیح اور مامور تھے اور پھر ایسے مامور تھے جن کی تمام انبیاء کی نے خبر دی۔اُن کا ذکر تو بڑی بات ہے۔میں اپنے متعلق ہی شروع سے دیکھتا ہوں کہ مخالفتیں ہوتی ہیں اور اتنی شدید ہوتی ہیں کہ ہر دفعہ لوگ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ اب کی دفعہ یہ مخالفانہ ہوا ئیں سب کچھ اُڑا کر لے جائیں گی مگر پھر وہ اس طرح بیٹھ جاتی ہیں جس طرح جھاگ بیٹھ جاتی ہے۔تو جس کو اللہ تعالیٰ قائم کرنا چاہے اُس کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔پس تمہیں اپنے دلوں میں سے ہر قسم کی نمود کا خیال مٹا کر کام کرنا چاہئے۔بڑ بولا ہونا کوئی خوبی کی بات نہیں ہوتی۔حضرت عائشہ نے ایک دفعہ بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ تیز کلامی میں مشغول ہیں۔صحابہ چونکہ سادہ کلام کرنے کے عادی تھے اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ معمولی فقرہ فرما دیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باتیں کرتے دیکھا ہے۔آپ اس طرح تیز تیز باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔اب ایک نیک شخص اور مؤمن انسان کو یہ فقرہ بالکل کاٹ دینے والا ہے اور وہ اسی سے سمجھ سکتا ہے کہ کس رنگ میں گفتگو کرنی چاہئے۔تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ زبان کے رس میں ساری کامیابی ہے حالانکہ اصل چیز باتیں کرنا نہیں بلکہ کام کرنا ہے۔مگر میں انہیں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں یعنی یہاں کی مجلس خدام الاحمدیہ کو بھی اور اُن مجالس خدام الاحمدیہ کو بھی جو میرے اس خطبہ کے نتیجہ میں قائم ہوں کہ وہ اس بات کو مد نظر رکھیں کہ اُن کا تعداد پر بھروسہ نہ ہو بلکہ کام کرنا ان کا مقصود ہو۔یہ بات میں پہلے بھی بیان کی کر چکا ہوں لیکن آج مجھے اس طرف خاص توجہ اس لئے ہوئی ہے کہ مجلس خدام الاحمدیہ کے ایک کی عہدہ دار کی مجھے پیٹھی ملی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ بعض لوگوں نے اس مجلس میں شامل کی ہونے سے انکار کر دیا ہے اور بعض لوگ جو پہلے اس میں شامل تھے وہ اب پیچھے ہٹ گئے ہیں حالانکہ اس بات پر بجائے رنجیدہ ہونے کے انہیں خوش ہونا چاہئے تھا کیونکہ میری تعلیم یہی ہے