خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 203

خطبات محمود ۲۰۳ سال ۱۹۳۸ء کہ جب مثلاً کسی ڈپٹی کمشنر کوکو ئی چٹھی لکھنی پڑے تو نیچے لکھ دیا مر بی مسلم ایسوسی ایشن ، دوسرے نے لکھ دیا چیئر مین مسلم ایسوسی ایشن ، تیسرے نے لکھ دیا صدر مسلم ایسوسی ایشن ، چوتھے نے لکھ کی دیا پریذیڈنٹ مسلم ایسوسی ایشن، محض یہ بتانے کیلئے کہ ہم مسلمانوں کے سردار ہیں ورنہ کام کچھ نہیں کرتے۔تو بعض لوگوں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اس قسم کے عہدے لینے کیلئے مجالس میں شامل ہوتے ہیں۔ایسے لوگ لعنت ہوتے ہیں اپنی قوم کیلئے اور لعنت ہوتے ہیں اپنے نفس کیلئے۔وہ وہی ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُراء ون ریاء ہی ریاء ان میں ہوتی ہے کام کرنے کا شوق ان میں نہیں ہوتا۔تو میں نے انہیں نصیحت کی ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے اندرمت شامل کریں جو کام کرنے کیلئے تیار نہ ہوں بلکہ انہی کو اپنے اندر شامل کریں جو یہ اقرار کریں کہ وہ بے قاعدگی کے ساتھ نہیں بلکہ باقاعدگی کے ساتھ کام کیا کریں گے۔بے قاعدگی کے ساتھ کام میں کبھی برکت نہیں ہوتی۔اگر تھوڑا کام کیا جائے لیکن مسلسل کیا جائے کی تو وہ اس کام سے زیادہ بہتر ہوتا ہے جو زیادہ کیا جائے لیکن تو اتر اور تسلسل کے ساتھ نہ کیا جائے۔میں چاہتا ہوں کہ باہر کی جماعتیں بھی اپنی اپنی جگہ خدام الاحمدیہ نام کی مجالس قائم کریں۔یہ ایسا ہی نام ہے جیسے لجنہ اماء اللہ۔لجنہ اماء اللہ کا مطلب ہے اللہ کی لونڈیاں اور خدام الاحمدیہ سے مراد بھی یہی ہے کہ احمدیت کے خادم۔یہ نام انہیں یہ بات بھی ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ وہ خادم ہیں مخدوم نہیں۔یہ جو بعض لوگوں کے دلوں میں خیال پایا جاتا ہے کہ کاش ہم کسی طرح کی لیڈر بن جائیں ، یہ بیہودہ خیال ہوتا ہے۔لیڈر بنانا خدا کا کام ہے اور جس کو خدا لیڈر بنانا چاہتا ہے اُسے پکڑ کر بنا دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں تحریر فرمایا ہے کہ: میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے۔اُس نے گوشہ تنہائی سے مجھے جبراً نکالا۔میں نے چاہا کہ میں پوشیدہ رہوں اور پوشیدہ مروں مگر اُس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوں گا“۔