خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 180

خطبات محمود ۱۸۰ سال ۱۹۳۸ ء سے لڑائی کے وقت تو یہ خیال ہو سکتا ہے کہ شاید ہم فتح پا جائیں اور زندہ واپس آجائیں مگر ہم تو ایسی قربانی کرنے کیلئے بھی تیار ہیں جس میں موت ہی موت دکھائی دیتی ہے۔ ایک اور صحابی کہتے ہیں میں سولہ لڑائیوں میں شامل ہوا۔ گیارہ بارہ لڑائیوں میں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہو اگر باوجود اس کے کہ میں اتنا بڑا ثواب حاصل کر چکا ہوں ، میرا جی چاہتا ہے کہ کاش ! میرے منہ سے صرف وہ فقرہ نکلتا جو اس صحابی کے منہ سے نکلا اور لڑائیوں میں میں بے شک شامل نہ ہوتا کیونکہ اس ایک فقرے کا ثواب سولہ لڑائیوں کے ثواب سے میرے نزدیک زیادہ ہے۔ اب دیکھو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں اپنی جانیں قربان کیں اور اس قربانی کے پیش کرتے وقت انہوں نے ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی مگر اس کے مقابلہ میں صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کیلئے گئے اور کفار نے روک لیا اور آپس میں بعض شرائط ہوئیں تو ان صلح کی شرائط میں سے ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی شخص مکہ سے بھاگ کر اور مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آئے گا تو اسے واپس کر دیا جائے گا لیکن اگر کوئی مسلمان مرتد ہو کر مکہ والوں کے پاس جائے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا ۔ یہ ہ معاہدہ ابھی لکھا ہی جا رہا تھا کہ ایک مسلمان مکہ سے بھاگ کر آپ کے پاس آیا اُس کا جسم بوجہ ان مظالم کے جو اس کے رشتہ دار اسلام لانے کی وجہ سے اس پر کرتے تھے زخموں سے چور تھا اُس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں اور پاؤں میں بیڑیاں ، اُسے دیکھ کر اسلامی لشکر میں ہمدردی کا ایک زبردست جذبہ پیدا ہو گیا ۔ دوسری طرف کفار نے مطالبہ کیا کہ اسے واپس کیا جائے ۔ یہ دیکھ کر مسلمان اس بات کیلئے کھڑے ہو گئے کہ خواہ کچھ ہو جائے ہم اِسے جانے نہیں دیں گے اور اپنے ہاتھوں اسے موت کے منہ میں نہیں دھکیلیں گے ۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب معاہدہ ہو چکا ہے اور اسے واپس کیا جائے گا ، خدا کے رسول جھوٹ نہیں بولا کرتے ۔ چنانچہ آپ نے اسے واپس کئے جانے کا حکم دیات اور مسلمانوں کے جذبات کو قربان کر دیا۔ یہ نظارہ دیکھ کر مسلمانوں کو اتنی کوفت ہوئی کہ وہ مجنون سے ہو گئے ۔ چنانچہ جب معاہدہ ہو چکا ۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے فرمایا قربانیاں کر دو مگر اُس وقت ایک صحابی بھی