خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 173

خطبات محمود ۱۷۳ سال ۱۹۳۸ ء چنانچہ دیکھ لو قر آن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ تینوں صورتیں بیان کی ہیں ۔ فرماتا ہے احزاب کے موقع پر جب کفار کا لشکر مسلمانوں کے خلاف جمع ہو گیا تو منافقوں نے کہا اے اہل یثرب ! لا مُقَامَ لَكُمْ اب تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں ۔ تم ان کا کہاں مقابلہ کر سکتے ہو۔ گویا انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مسلمان اب مارے جائیں گے اور ہم تو پہلے ہی یہ کہتے تھے کہ خواہ مخواہ دوسروں سے بحثیں کرتے پھرنا فضول بات ہے۔ ہم کوئی دوسروں کی ہدایت کے ٹھیکہ دار تھوڑے ہیں مگر مسلمانوں نے ہماری بات نہ مانی اور نتیجہ یہ ہوا کہ سارے لوگ مل کر حملہ آور ہو گئے ۔ اب انہیں پتہ لگے گا کہ اسلام کی تبلیغ کس طرح کیا کرتے ہیں ۔ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے جب احزاب کو شکست دی تو منافق کہنے لگے شکست کوئی نہیں ہوئی ۔ وہ تو صرف تھوڑی دیر کیلئے پیچھے ہٹے ہیں تا کہ دوبارہ جمعیت کو مضبوط کر کے حملہ کریں ۔ تیسری کیفیت منافقوں کے قلوب کی ایک اور جنگ کے موقع کے ذکر میں بیان فرماتا ہے۔ فرماتا ہے منافق کہتے ہیں لَوْ نَعْلَمُ قِتَالاً ما اتَّبَعْنُكُمْ کے اگر ہم جانتے کہ لڑائی ہو گی تو ہم بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہوتے ۔ مگر ہمارا تو یہ خیال تھا کہ لڑائی کوئی ہے ہی نہیں ، صرف خیالی خطرہ ہے ( اس آیت کے اور معنے بھی ہیں۔ میں ان کی تردید نہیں کرتا ۔ قرآن کریم ذومعانی ہے ) ۔ اسی حالت کا نقشہ سورہ بقرہ میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ اَلَّا نَّهُمْ هُما هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِن لَّا يَشْعُرُونَ ) وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَمِنُوا كَمَا مَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا مَنَ السُّفَهَاءُ ، الَّا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِن لَّا يَعْلَمُونَ کے یعنی جب منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ کفار سے ساز باز رکھ کر فساد پیدا نہ کرو۔ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کی کوشش کر رہے ہیں ۔ یعنی آپس کا اختلاف کوئی بڑا اختلاف نہیں صلح نا ممکن نہیں ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ آپس میں صلح ہو جائے اور فساد دُور ہو جائے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم غلط کہتے ہو ۔ دنیا کا جھگڑا نہیں کہ صلح ہو جائے ، یہ تو دینی اختلاف ہے جس میں سو دانہیں ہوسکتا ۔ پس اس ساز باز سے وہ فساد پیدا کر رہے ہیں مگر ایمان نہیں ، اس لئے محسوس نہیں کرتے۔ پھر فرماتا ہے جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح باقی لوگ ایمان لا رہے ہیں تم بھی ایمان لاؤ تو کہتے ہیں کہ یہ تو بیوقوف ہیں ۔