خطبات محمود (جلد 19) — Page 168
خطبات محمود ۱۶۸ سال ۱۹۳۸ء پس اللہ تعالیٰ انہیں تدریجی رنگ میں ترقیات دیتا اور تدریجی رنگ میں ہی وہ شریعت کے احکام کا دنیا میں قیام کرتے ہیں۔اور چونکہ دنیا جلالی قسم کے انبیاء سے یہ دھوکا کھا جاتی ہے کہ شاید انہوں نے تلوار کے زور سے اپنا مذہب پھیلایا ہے، اس لئے خدا تعالیٰ اس اعتراض کو مٹانے کیلئے بعد میں جمالی انبیاء بھیجتا ہے جو تبلیغ کے ذریعہ وہی مذہب دنیا میں قائم کرتے ہیں۔اس طرح جہاں ایک طرف ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی جمالی صفات دنیا میں ظاہر ہوتی ہیں ، وہاں ان سے پہلے جلالی نبی پر جو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس نے تلوار کے زور سے اپنا مذہب پھیلا یا ، اس کا بھی دفعیہ ہو جاتا ہے۔اب وہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے تلوار کے زور سے اپنا مذہب دنیا میں قائم کیا اور لڑائی کے نتیجہ میں اپنی حکومت قائم کر کے یہود کو بام ترقی پر پہنچایا یا وہ جو حضرت کرشن پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے مخالفوں سے لڑائی کی اور انہیں کی تلوار سے ہلاک کر کے اپنے ساتھیوں کی حکومت ہندوستان میں قائم کر دی یا وہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے تلوار کے زور سے عرب فتح کیا اور اسلام کو غلبہ واقتدار حاصل ہوا، ان کے سامنے جب یہ سوال رکھا جاتا ہے کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تلوار کے زور سے اپنا مذہب دنیا میں قائم کیا تھا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خادموں میں سے ایک خادم اور آپ کی اُمت کے ایک نبی حضرت مسیح علیہ السلام نے بغیر تلوار چلائے کس طرح دین عیسوی دنیا میں قائم کر دیا جو در حقیقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ہی لایا ہوا مذہب تھا۔بعد میں لوگوں نے بگاڑ کر اُس کی اور شکل بنادی ، تو وہ سوائے خاموش رہنے کے اور کوئی جواب نہیں دے سکتے۔اس طرح ان کا اعتراض فوراً باطل ہو جاتا اور کوئی ہوش مند انسان یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ اعتراض محض قلتِ تدبر کا نتیجہ ہے۔ورنہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام بغیر تلوار چلائے لوگوں کو اپنا ہم خیال نہیں بنا سکتے تھے تو حضرت عیسی علیہ السلام نے بغیر تلوار کی چلائے کس طرح لاکھوں کو اپنا ہم خیال بنالیا۔اسی طرح اگر کرشن جی پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنا مذہب تلوار کے زور سے پھیلایا تو اس کے جواب میں یہ بات پیش کی جاسکتی ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت رام چندر جی جو اُن کے بعد آئے اُنہوں نے صلح ، محبت اور کی