خطبات محمود (جلد 19) — Page 167
خطبات محمود ۱۶۷ ۱۱ سال ۱۹۳۸ قربانیوں کے میدان میں کبھی سست نہیں ہونا چاہئے فرموده ۱۸ / مارچ ۱۹۳۸ء) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - میں نے کئی دفعہ جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک جلالی ہوتے ہیں اور ایک جمالی۔اس مسئلہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں اتنا زور دیا ہے اور اتنی وضاحت سے اس کو بیان فرمایا ہے کہ کوئی شخص بھی جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کو پڑھا ہو ، اس سے غافل نہیں رہ سکتا کہ انبیا ہمیشہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ انبیاء ہوتے ہیں جو جلالی رنگ میں آتے ہیں اور ایک وہ انبیاء ہوتے ہیں جو جمالی رنگ میں آتے ہیں۔جو انبیاء جلالی رنگ میں آتے ہیں اُن کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے کہ ان کی قوم کو دشمن سے لڑائیاں کرنی پڑتی ہیں۔ان لڑائیوں میں فتوحات ہوتی ہیں اور اس طرح قریب ترین زمانہ میں اللہ تعالیٰ انہیں حکومت دے دیتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ تمام شرعی احکام کا نفاذ کر کے دنیا میں شریعت کو عملی رنگ میں قائم کر دیتے ہیں۔مگر دوسری قسم کے انبیاء جو جمالی رنگ میں آتے ہیں ان کی بعثت سے پہلے چونکہ کسی جلالی نبی کے ذریعہ شریعت دنیا میں قائم ہو چکی ہوتی ہے، گومرور زمانہ کی وجہ سے لوگ اُسے بھول چکے ہوتے ہیں اس لئے یہ ضرورت نہیں ہوتی کہ شریعت کا قیام فوری طور پر عمل میں لایا جائے۔