خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 162

خطبات محمود ۱۶۲ سال ۱۹۳۸ء آتا ہو۔یا انسان کو مارنا آتا ہو۔ان الفاظ کو تو نقل کر دیا ہے۔لیکن اس کے ساتھ کا فقرہ کہ ”ہمارا طریقہ مرنے کا ہے چھوڑ دیا ہے۔اس سے آگے جا کر میں نے کہا ہے کہ ” تم گالیاں سنوا اور صبر کرو۔اسے چھوڑ کر اس کا یہ حصہ درج کر دیا ہے اے بے شرم تو آگے کیوں نہیں جاتا کی اور اُس منہ کو کیوں تو ڑ نہیں دیتا جس منہ سے تو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دلوائی ہیں۔پھر اس سے آگے یہ فقرہ، نقل کر کے کہ گورنمنٹ تمہاری مدد نہیں کرے گی ، یہ فقرہ نقل کر دیا ہے کہ وہ تمہارے صبر کو بُزدلی پر محمول کریں گے۔حالانکہ یہ فقرہ گورنمنٹ کے متعلق نہیں۔بلکہ جیسا کہ میں نے درمیان میں نقل کیا ہے۔یہ فقرہ رذیل حکام کے متعلق ہے اور میں نے صاف فرق کیا ہے کہ گورنمنٹ کا شریف حصہ تمہاری قدر کرے گا۔مگر رذیل حکام تمہارے صبر کو بھی بُزدلی قرار دیں گے۔غرضیکہ لا تقربوا الصلوة " کہنے والے کی طرح صرف کہیں کہیں سے کوئی کوئی ٹکڑا جو میرا عقیدہ نہیں بلکہ دوسرے کا عقیدہ بیان کیا گیا ہے لیکن میری طرف منسوب کر دیا گیا۔اور کی جو میرا عقیدہ وہاں بیان ہے اسے چھوڑ دیا گیا ہے۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ دشمن جانتا ہے کہ وہ سچ سے میرے مقابلہ پر کامیاب نہیں ہوسکتا۔آخر میں بھی مصنف ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے تصنیف کا کام کرتا آرہا ہوں۔میں نے ۱۹۰۷ ء میں مضمون لکھنے شروع کئے اور ایک دو مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی مجھ سے لکھوا کر اپنی طرف سے شائع کی کرائے۔گویا آج اکنتیس سال ہوئے کہ میں تصنیف کا کام کر رہا ہوں۔اس عرصہ میں میں نے سینکڑوں تقریریں کی ہیں اور درجنوں اشتہار اور رسالے بھی شائع کئے ہیں۔کوئی ثابت تو کرے کہ میں نے بھی کبھی کوئی غلط حوالہ دیا ہے۔میرے کسی حوالہ کو بڑے سے بڑے دشمن کے سامنے بھی رکھ دو پھر دیکھو کیا وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے کبھی کوئی حوالہ ا را د تا غلط پیش کیا ہے۔مگر ان کو علیحدہ ہوئے ابھی ایک سال بھی پورا نہیں ہوا کہ دیانت کا معیار اس قدر گر گیا ہے اور پھر دعوی جماعت کی اصلاح کا ہے۔تم کوئی ایک ہی مثال پیش کرو کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی اپنی جماعت کی اصلاح کیلئے کسی جھوٹے کو لیڈر بنا کر کھڑا کیا ہو۔ہاں یہ صحیح ہے کہ جب کوئی جماعت گندی ہو جائے اور خدا تعالیٰ نے اُسے تباہ کرنے کا ارادہ کر لیا ہو تب وہ فاجروں سے بھی یہ کام کی