خطبات محمود (جلد 19) — Page 149
خطبات محمود ۱۴۹ سال ۱۹۳۸ ء منسوخ کر دیں مگر ہم نے وہ الفاظ چونکہ کہے ہی نہیں اس لئے منسوخ کسے کریں۔ یہ بالکل وہی بات ہے کہ بکر زید سے کہتا ہے کہ میں تمہارا ایک ہزار روپیہ اس لئے نہیں دیتا کہ وہ میں تمہارے مکان پر بھجوا چکا ہوں اور اب تک وہ پہنچ بھی چکا ہوگا ۔ لیکن زید کہے کہ بکر بددیانت ہے۔ اسی طرح حجز کہتے ہیں کہ ہم درخواست کو مسترد کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس میں وہ بات حذف کرنے کو کہا گیا ہے جو ہم نے کہی ہی نہیں ۔ اور دشمن جو کہتے ہیں کہ ہم نے یہ کہا ہے وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ اور آئندہ کیلئے ہم یہ قرار دیتے ہیں کہ ہمارے اس فیصلہ کو بھی سابقہ فیصلہ کا جز سمجھا جائے اور اسے اُس کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔ لیکن یہ لوگ عوام کو صرف یہ سناتے ہیں کہ مرزا صاحب کی درخواست مستر د ہو گئی ۔ ان کے حامی اخبارات بھی یہ بات لکھ رہے ہیں اور یہاں قادیان میں مصری صاحب اور ان کے ساتھی بھی یہ کہتے ہیں کہ الْحَمدُ لله درخواست مستر د ہو گئی ۔ کیسی عجیب بات ہے ۔ ہائیکورٹ کے حج تو یہ کہتے ہیں کہ مصری اور اس کے ساتھی جھوٹے ہیں ۔ مگر یہ کہتے ہیں کہ الْحَمْدُ لله درخواست مسترد ہو گئی ۔ ہم تو دعا کرتے ہیں کہ ایسی الْحَمْدُ للہ کہنے کی توفیق ان کو روز ملتی رہے ۔ حکومت اور غیر حکومت کے لوگوں کی طرف سے روز ان کو جھوٹا کہا جائے اور یہ روز الْحَمْدُ لِللہ کہتے رہیں ۔ مصری صاحب نے اس فیصلہ کے الفاظ سے مراد جسمانی سزا ہی لی تھی ۔ چنانچہ اسی بناء پر انہوں نے مجھ پر اعانت قتل کا مقدمہ بھی دائر کر دیا۔ ان کی طرف سے مجھ پر تین مقدمات اعانت قتل کے دائر کئے گئے ہیں۔ پہلے ایک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں دائر کیا جو خارج کر دیا گیا۔ پھر اس کی اپیل عدالت سیشن میں کی جسے عدالت سیشن نے بھی خارج کر دیا اور لکھا کہ مستغیث کو چونکہ مرزا صاحب سے دشمنی ہے، اتنے عرصہ میں وہ جھوٹے گواہ تیار کر سکتا ہے۔ پھر ایک استغاثہ مجسٹریٹ علاقہ کی عدالت میں دائر کیا گیا جسے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے منگوا کر خارج کر دیا۔ ان باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دشمن جھوٹ بولنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ باقی صرف ایک فقرہ ایسا رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ جوں نے لکھا ہے کہ احتیاط کرنی چاہئے ۔ مگر اس سے دشمن کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ ملکی قانون کے نگران ملک میں امن کے قیام کو مد نظر رکھتے ہوئے الزام دیئے بغیر اگر عام نصیحت کریں تو یہ ان کا حق ہے ۔ جب وہ تسلیم کرتے ہیں کہ میں نے -