خطبات محمود (جلد 19) — Page 148
خطبات محمود اس کے بعد حجز کہتے ہیں کہ : ۱۴۸ سال ۱۹۳۸ ء ” اس فقرہ کا یہ مفہوم درست نہیں ۔ لیکن اس معاملہ کو اچھی طرح واضح کرنے کیلئے نیز خلیفہ صاحب کے متعلق انصاف کو ملحوظ رکھنے کیلئے (In Justiceto کا یہ ترجمہ صحیح نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلیفہ صاحب کے متعلق انصاف کا تقاضا پورا کرنے کیلئے ) ہم یہ قرار دیتے ہیں کہ ہم نے وکیل یہ کے اس بیان کو صحیح تسلیم کیا تھا کہ خلیفہ صاحب کی تقریر میں جسمانی طور پر نہیں بلکہ وحانی طور پر سزا کا ذکر تھا۔ ہم نے دراصل اس ملک میں اس قسم کی تقریرو کے متعلق اس خطرہ کا اظہار کیا تھا کہ کسی مذہبی راہنما کے پُر جوش پیروان دوقتسم کی سزاؤں میں مشکل سے تمیز کر سکتے ہیں۔ یروں یعنی ہمارا واعظا نہ رنگ تھا ۔ اس ملک میں لوگ عام طور پر جاہل ہیں اور عین ممکن ہے کہ کسی تقریر میں کسی مذہبی بزرگ کی مراد سزا سے روحانی ہو مگر اس کے جاہل مریدوں میں سے کوئی ہومگر اس بات کو نہ سمجھ سکے اور وہ جسمانی سزا مراد لے لے ۔ پھر وہ لکھتے ہیں کہ : - ”ہم اپنے فیصلہ کے کسی حصہ کو حذف کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ( یعنی جب ہم نے وہ بات کہی ہی نہیں تو حذف کس کو کریں ) لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے اس فیصلہ کو جس رنگ میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے پیش نظریہ ضروری ہے کہ آخری حصہ کے مفہوم کی ایسی تشریح کر دی جائے کہ اس کا مطلب غلط نہ لیا جا سکے ۔ چنانچہ اس غرض کے لئے ہمارا یہ فیصلہ فوجداری اپیل ۱۱۲ آف ۱۹۳۷ء کے متعلق ہمارے فیصلہ کے حصہ کے طور پر پڑھا جانا چاہئے ۔ درخواست خارج کی جاتی ہے۔ گویا وہ قرار دیتے ہیں کہ آئندہ پہلے فیصلہ کو علیحدہ کوئی شائع نہیں کر سکتا بلکہ ا۔ ضروری ہے تاہر پڑھنے والا سمجھ سکے کہ ہمارا کیا مطلب ہے۔ اور وہ قرار دیتے ہیں کہ ہماری اس تشریح کے بغیر جو شائع کرے گا وہ مجرم ہوگا ۔ یہ الفاظ کہ درخواست خارج کی جاتی ہے تو ہے تو ٹیکنیکل اور اصطلاحی الفاظ ہیں اور ان کا مطلب یہ ہے کہ ہم سے کہا گیا ہے کہ ہم ان الفاظ کو