خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 134

خطبات محمود ۱۳۴ سال ۱۹۳۸ء پس دشمنوں کے حملوں سے مت گھبراؤ اور اس کی ناجائز تدابیر سے کبھی جوش میں نہ آؤ۔ایک چیونٹی کو بھی مارنے لگو تو وہ انسان کو کاٹتی ہے، پھر وہ تو انسان ہیں۔یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ تم ان کے عقائد کو باطل کر رہے ، ان کی جمعیت کو ایک ایک کر کے اپنے ساتھ ملا رہے اور ان کو ان کے ہر حملہ میں ناکام و نامراد کر رہے ہو اور وہ پھر بھی کی جوش میں نہ آئیں اور گالیوں کے رنگ میں اپنے دل کا بخار نہ نکالیں۔انہیں صاف نظر آ رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کی نصرت اور تائید ہماری جماعت کو حاصل ہے ، انہیں اپنی آنکھوں سے دکھائی دے رہا ہے کہ آسمان سے فرشتے ہماری تائید کیلئے اُتر رہے ہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ گھٹتے جا رہے ہیں اور ہم بڑھتے جارہے ہیں، اگر یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود وہ جوش میں نہ آئیں تو کیا کریں۔ان کے پاس صداقت تو ہے نہیں۔پس وہ گالیاں دیتے اور تہذیب سے گرے ہوئے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں اور یہی چیزیں ان کے پاس ہیں۔مگر تم چاہتے ہو وہ شکست بھی کھاتے جائیں اور بولیں بھی نہ۔پس تم ان کو اپنا غصہ نکالنے دو اور اپنے اندر نیکی پیدا کرو اور تقویٰ کی بھٹی میں اپنی تمام اندرونی آلائشوں کو جلا دو تا آئندہ آنے والی نسلوں اور نئے احمدیوں پر تمہاری نیکی کا اثر ہو۔چاہئے کہ تمہاری زبانیں کلمات محبت سے تر ہوں اور دشمن کی خیر خواہی بھی تمہارے دلوں میں مرکوز ہو۔ہاں اس حد تک جو کم سے کم حد ہو تمہیں احتیاط بھی رکھنی چاہئے۔مثلاً وہ لوگ جو منافقت کا نقاب اپنے چہرے پر اوڑھے رہیں اور جماعت کے اندر رہ کر جماعت کی بربادی کی کوشش کریں ان کی سازش کے ظاہر ہونے پر ضروری ہے کہ ان سے بول چال ممنوع قرار دی جائے۔اگر کوئی سازش نہ کرے اور جماعت میں شامل رہ کر جماعت کے نظام کو درہم برہم کرنے کی کوشش نہ کرے تو اس سے بول چال ممنوع نہیں کی جاتی۔یہ صرف ایسے شخص کو ہی سزا دی جاتی ہے جو منافقانہ رنگ اختیار کرتا ہے۔کئی نادان ہیں جو کہہ دیتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر میں ایک دفعہ بعض لوگوں کو یہ سزا دی تھی مگر تم تو ہمیشہ یہ سزا دیتے ہو۔ان نادانوں کو یہ معلوم نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہت دی ہوئی تھی اور آپ اس سزا کے علاوہ ی