خطبات محمود (جلد 19) — Page 118
خطبات محمود ۱۱۸ سال ۱۹۳۸ء اور تفکر اور اخلاق فاضلہ کا تمام مدار دماغ پر رکھے یا یہ کہے کہ انسانی عقل اور معرفت کا سر چشمہ دل ہے اور دماغ کو علوم اور معارف سے کچھ تعلق نہیں پھر خواہ وہ دل اور دماغ کی بجائے جذبات اور افکار کا لفظ استعمال کرے بہر حال کوئی بھی صورت ہو انسان کیلئے دو چیزوں کی صفائی نہایت ضروری ہے جن میں سے ایک فکر ہے اور دوسری جذبات لطیفہ۔انسان کے گہرے جذبات یعنی جذبات کی حسن نہ کہ عارضی جذ بے قلوب کی صفائی سے پیدا ہوتے ہیں اور افکار کی صفائی جسے عربی میں تنویر کہتے ہیں دماغ کی صفائی سے حاصل ہوتی ہے۔تنویر اس بات کو کہتے ہیں کہ انسان کی کے اندر ایسا نور پیدا ہو جائے کہ اسے ہمیشہ خیال صحیح پیدا ہو۔فعلاً صحیح خیال کا پیدا ہونا تنویر نہیں بلکہ ایسے ملکہ کا پیدا ہو جانا کہ ہمیشہ صحیح خیالات ہی پیدا ہوتے رہیں تنویر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میں نے خود سُنا ہے۔بعض دفعہ جب آپ سے کوئی فقہی مسئلہ پوچھا جاتا تو چونکہ یہ مسائل زیادہ تر انہی لوگوں کو یاد ہوتے ہیں جو ہر وقت اسی کام میں لگے رہتے ہیں۔بسا اوقات آپ فرما دیا کرتے کہ جاؤ مولوی نورالدین صاحب سے پوچھ لو یا مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کا نام لیتے کہ ان سے پوچھ لو یا مولوی سید محمد احسن صاحب کا نام لے کر فرماتے کہ ان سے پوچھ لو یا کسی اور مولوی کا نام لے لیتے اور بعض دفعہ جب آپ دیکھتے کہ اس مسئلہ کا کسی ایسے امر سے تعلق ہے جہاں بحیثیت ما مور آپ کیلئے دنیا کی را ہنمائی کرنا ضروری ہے تو آپ خود مسئلہ بتا دیتے۔مگر جب کسی مسئلہ کا جدید اصلاح سے تعلق نہ ہوتا تو آپ فرما دیتے کہ فلاں مولوی صاحب سے پوچھ لیں اور اگر وہ مولوی صاحب مجلس میں ہی بیٹھے ہوئے ہوتے تو اُن سے فرماتے کہ مولوی صاحب یہ مسئلہ کس طرح ہے۔مگر بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ جب آپ کہتے کہ فلاں مولوی صاحب سے یہ مسئلہ دریافت کر لو تو ساتھ ہی آپ یہ بھی فرماتے کہ ہماری فطرت یہ کہتی ہے کہ یہ مسئلہ یوں ہونا چاہئے اور پھر فرماتے ہم نے تجربہ کی کیا ہے کہ باوجود اس کے کہ کوئی مسئلہ ہمیں معلوم نہ ہو اُس کے متعلق جو آواز ہماری فطرت سے اُٹھے بعد میں وہ مسئلہ اسی رنگ میں حدیث اور سنت سے ثابت ہوتا ہے۔یہ چیز ہے جو تنویر کہلاتی ہے۔تو تنویر اس بات کو کہتے ہیں کہ انسانی دماغ میں جو خیالات بھی پیدا ہوں وہ درست ہوں۔جس طرح ایک تندرستی تو یہ ہوتی ہے کہ انسان کہے میں اس وقت تندرست ہوں۔اور ایک تندرستی