خطبات محمود (جلد 19) — Page 116
خطبات محمود ١١٦ ۹ سال ۱۹۳۸ ء رحم میں وسعت اختیار کرو فرموده ۱۴ مارچ ۱۹۳۸ء ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - اللہ تعالیٰ کی جماعتیں یعنی حزب اللہ اور خدا کا گروہ جب کبھی دنیا میں قائم ہوتا ہے تو اس کو تمام دنیا سے ایک روحانی جنگ کرنی پڑتی ہے۔ لیکن روحانی جنگ سب سے پہلے انسان کو اپنے نفس سے کرنی ضروری ہوتی ہے کیونکہ ایسا شخص جس کا گھر دشمن کے قبضہ میں ہو وہ باہر جا کر نہیں لڑسکتا ۔ جس کا کوئی ملک ہی نہ ہو اس نے جنگ کیا کرنی ہے۔ اسی طرح جس شخص کے دل پر شیطانی قبضہ ہو اُس نے شیطانی مظاہر کا دنیا میں مقابلہ کیا کرنا ہے۔ آخر فوجوں کے رکھنے کیلئے یا ذخیروں کے رکھنے کیلئے یا گولہ و بارود رکھنے کیلئے یا اور سامانِ جنگ رکھنے کیلئے کوئی ملک چاہئے بے ملک تو کوئی فوج نہیں ہوتی ۔ لازما وہ فوج کہیں سے کھانا مہیا کرے گی ، کہیں سے پانی مہیا کرے گی ، کہیں سے سامان جنگ مہیا کرے گی، کہیں قلعے بنائے گی ، کہیں سپاہیوں کیلئے بسیرے اور جگہیں بنائے گی ، کہیں خندقیں کھودے گی اور کہیں گھوڑے کھڑے کرے گی اور اگر باقی ضرورتوں کو مد نظر نہ رکھا جائے تو بھی کم سے کم سپاہیوں کے ڈیروں کیلئے ہی ایک وسیع علاقہ کی ضرورت ہو گی مگر جس کا ملک ہی نہیں وہ یہ انتظام کس طرح کر سکتا ہے۔ م کس طرح کر سکتا ہے ۔ اس اصل کے ماتحت روحانی فوج کیلئے بھی ملک کی ضرورت ہوا کرتی ہے مگر روحانی فوج ہوا ہے کا ملک انسان کا دل ہوتا ہے اور جس شخص کا دل اپنے قبضہ میں نہ ہو وہ روحانی معارف کی فوج