خطبات محمود (جلد 19) — Page 113
خطبات محمود ۱۱۳ سال ۱۹۳۸ ء اوڑھنے کہ اس کا ادا کرنا بھی گناہ ہو جاتا ہو ۔ اور ایک بات تو ظاہر ہی ہے کہ حج کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ شرائط مقرر کی ہیں ۔ اگر ان شرطوں کے بغیر کوئی حج کرے تو یقیناً وہ شریعت کا حکم پورا کرنے والا نہ ہوگا ۔ مثلاً آجکل ہی بعض بزرگ لوگ حج کیلئے جاتے ہیں ، اس لئے کہ لوگ انہیں حاجی کہیں ورنہ ان کے اندر جج کے نتیجہ میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی ۔ کہتے ہیں سردی کے موسم میں کوئی غریب اور اندھی بڑھیا گاڑی میں سفر کر رہی تھی ۔ اس کے پاس ھنے کیلئے صرف ایک ہی چادر تھی ۔ کسی نے اسے اُٹھا لیا لیکن جب چادر کھسکی تو وہ سمجھ گئی کہ کسی نے میری چادر اٹھائی ہے اور کہنے لگی کہ بھا ئیا حاجیا۔ یعنی بھائی حاجی صاحب مجھ غریب اندھی کی چادر تو نہ اُٹھائیں ۔ اٹھانے والے نے چادر تو آہستہ سے رکھ دی مگر کہا کہ مائی یہ بتاؤ تمہیں کیسے پتہ لگا کہ میں حاجی ہوں ۔ اس بڑھیا نے کہا کہ اس قد رسخت سنگدلی کا کام سوائے حاجی کے کون کر سکتا ہے کہ مجھ ایسی غریب ، اندھی بڑھیا کی اس قد رسخت سردی کے وقت چادر اٹھا لے جائے ۔ پھر میں نے اپنے کانوں سے سُنا اور آنکھوں سے دیکھا ہے کہ سورت کا ایک حاجی منی اور مکہ کے درمیان سفر کرتے وقت جو حج کا موقع ہوتا ہے اور جب سب حاجی لبیک اللَّهُمَّ لَكَ لَبَّيْكَ کہتے جا رہے ہوتے ہیں ، اردو کے نہایت گندے عشقیہ شعر پڑھ رہا تھا۔ واپسی کے وقت وہ اسی جہاز میں تھا جس میں میں سفر کر رہا تھا ۔ میں نے اسے پوچھا کہ آپ کو حج کی کیا ضرورت پیش آئی تھی جبکہ آپ حج کے موقع پر عشقیہ شعر پڑھ رہے تھے۔ تو اس نے کہا کہ ہمارے پاس والی دکان کے بورڈ پر چونکہ حاجی کا لفظ لکھا ہے، وہاں خریدار بہت آتے ہیں۔ میرے والد نے کہا کہ تم بھی حج کر آؤ تا ہم بھی بورڈ پر لفظ حاجی لکھو اسکیں اور ہمارا بھی سو دا زیادہ فروخت ہو۔ اس کی اپنی دینی حالت کا تو یہ حال تھا لیکن جب اسے علم ہوا کہ میں احمدی ہوں تو میں نے خودا سے ایک دوسرے شخص سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں حیران ہوں ایسا شخص جہاز میں پھر رہا ہے اور پھر بھی یہ جہاز غرق نہیں ہوتا۔ گویا اس کے نزدیک احمدیت ایسی بغض والی چیز تھی کہ جس جہاز میں کوئی احمدی سوار ہو اللہ تعالیٰ کو چاہئے تھا کہ اسے غرق کر دیتا۔ خواہ اس کے ساتھ ہزار اس کے ہم عقیدہ لوگ بھی غرق ہو جاتے ۔ پس حج بھی بُری چیز ہوسکتی ہے اس لئے مومن کا کام ہے کہ مناسب موقع نیکیوں کی صورتوں میں تبدیلی کرتا رہے۔ ہاں جو چیز