خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 104

خطبات محمود ۱۰۴ سال ۱۹۳۸ء پڑے گا جو خالص اسلامی ہے اور جس کا اصول یہ ہے کہ خزانہ میں جس نسبت سے روپیہ آئے کی اُسی نسبت سے کام کرنے والوں میں تقسیم ہوتا رہے ، خواہ انہیں تھوڑا ملے یا بہت۔بالکل ممکن ہے ہم اپنے نظام کے بعض حصوں میں اس طریق کو جاری نہ کر سکیں۔مثلاً مدرسہ ہے وہاں حکومت کی بعض پابندیوں کی وجہ سے اس امر کا امکان ہے کہ ہم یہ طریق اختیار نہ کر سکیں مگر جہاں اور جس حد تک سرکاری قانون ہمارے راستہ میں حائل نہیں ہوگا وہاں ہم اس بات پر مجبور ہوں گے کہ ایسے ہی لوگوں سے کام لیں جو اسلامی طریق پر چلنے کیلئے تیار ہوں اور اگر کوئی اس کی بات کیلئے تیار نہ ہوا تو اسے کہہ دیا جائے گا کہ تم اپنے گزارہ کا کوئی اور انتظام کرلو۔میں نے یہ جماعت کو اس لئے بتایا ہے تا جماعت کے دوست اس امر پر غور کریں اور کا رکن بھی سوچیں کیونکہ جلد یا بدیر ہمیں یہ طریق اختیار کرنا پڑیگا۔اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق عطا فرمائی تو میں اپنا پورا زور اس بات کیلئے لگاؤں گا کہ ہما را تمام نظام منہاج نبوت پر آ جائے اور مغرب کے اصول کو جلد یا بدیر ہم بالکل ترک کر دیں کیونکہ ہم کو اگر کامیابی ہو گی تو انہی اصول پر چل کر جو اسلام نے مقرر کئے ہیں نہ ان اصول پر چل کر جو مغرب نے تجویز کئے ہیں۔اور اگر ہم اپنے نظام اور اصول میں مغرب کے ہی شاگر د ر ہے اور عقیدہ میں ہم نے مغرب پر فتحی حاصل کر لی تو ہم نے مغرب کو شکست بھی دی تو کیا شکست دی۔حالانکہ ہماری جس قدر دشمنی ہے وہ مغربیت سے ہے نہ کہ مغرب کے آدمیوں سے۔اور اگر مغربیت ہمارے اندر خود آگئی تو مغرب کو ہم نے کیا زک پہنچائی۔آخر مغرب کے آدمی تو ہمارے دشمن نہیں وہ تو ہمارے بھائی ہیں۔اگر آج مغرب کے لوگ مسلمان ہو جائیں تو ہم انہیں اپنے سر آنکھوں پر بٹھا ئیں۔لیکن اگر ہم آدمیوں سے نفرت کرتے ہیں اور ان کے افعال سے محبت کرتے ہیں۔مغربیت کو تو خود اختیار کرتے ہیں مگر مغرب کے باشندوں سے دور بھاگتے ہیں تو ہم نہ صرف مغربیت کا جبہ خود پہن لیتے ہیں بلکہ اسلام کی تعلیم کے خلاف بھی چلتے ہیں۔کیونکہ اسلام آدمیوں سے عداوت جائز قرار نہیں دیتا بلکہ بُرے افعال سے عداوت پسند کرتا ہے۔جب افغانستان میں ہمارے چند آدمی مارے گئے اور ہم نے حکومت کے اس فعل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی تو ہم نے اُسی وقت اس امر کی تصریح کر دی تھی کہ ہماری امیر اور اس کے آدمیوں سے کوئی دشمنی نہیں