خطبات محمود (جلد 19) — Page 10
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء سنیں کہ ان کے سُننے کے باوجود وہ خدا تعالیٰ کی آواز کا عاشق رہا۔اگر وہ شخص جس کی زبان مفلوج ہے اور جو میٹھے کھٹے اور چیٹے کا فرق محسوس نہیں کرتی یہ کہتا ہے کہ مجھے حلال کھانے سے زیادہ اور کسی میں مزا محسوس نہیں ہوتا تو اُس کی یہ تعریف کوئی زیادہ قیمت نہیں رکھتی۔مگر وہ جس کی زبان ذائقہ کو خوب پہچانتی ہے وہ اگر یہ کہتا ہے کہ مجھے حلال کھانے سے زیادہ اور کسی میں مزہ نہیں آتا اور خدا تعالیٰ کی باتوں سے زیادہ حلاوت مجھے اور کسی چیز میں معلوم نہیں ہوتی۔تو وہی کامل موحد ہے اور اسی کی تعریف صحیح تعریف کہلانے کی مستحق ہے۔اسی طرح اگر کسی کے کان درست ہیں اور وہ لوگوں کی سُریلی اور دلکش آوازیں سنتے ہیں مگر باوجود اس کے وہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ آواز جو مجھے اس کے کلام سے آتی ہے وہی سریلی اور وہی دلکش معلوم ہوتی ہے تو وہی ہے جس کی محبت کامل ہے۔اسی طرح وہ شخص جس کی آنکھیں دنیا کے تمام حسین نظارے دیکھتی ہیں وہ اگر تمام خوبصورتی اور حسن دیکھنے کے باوجود خدا تعالیٰ کی باتوں اور اس کے کلام میں ہی حسن پاتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی حقیقی محبت ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ساری چیزیں پیدا کیں تا وہ دیکھے کہ ان کے ہوتے ہوئے بندے اس کی خوبصورتی اور اس کے حُسن کی کیا قدر کرتے ہیں۔پس اگر خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جاؤ اور دنیا کے کاموں میں مشغول ہو جاؤ ، جاؤ اور شادیاں کرو اور بچے پیدا کرو، جاؤ اور پیشے کرو ، جاؤ اور حلال اور طیب رزق کھاؤ ، اسی طرح اگر اس نے سُریلی اور دلکش آوازیں سننے کی اجازت دی ہے، عمدہ سے عمدہ خوشبوئیں سُونگھنے سے نہیں روکا ، اچھے نظاروں کے دیکھنے کی ممانعت نہیں کی تو اسی لئے کہ وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم ان چیزوں کے حُسن میں خدا تعالیٰ کا حُسن کیونکر دیکھتے ہیں اور یہ چیزیں ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہیں یا اس کے قُرب کے راستہ سے دور پھینک دیتی ہیں۔پس اے عزیز و! اپنے ایمان کی بنیاد توحید کامل پر رکھو۔انسانوں سے اپنی نظریں ہٹا لو اور خدا اور صرف خدا پر اپنی نظریں رکھو۔یا د رکھو انبیاء کے ابتدائی زمانوں میں نبیوں کی جماعتوں سے بڑھ کر مقہور ، ذلیل اور حقیر اور کوئی جماعت نہیں ہوتی۔عالموں کی نظر میں اور جاہلوں کی نظر میں ، امیروں کی نظر میں اور غریبوں کی نظر میں، بادشاہوں کی نظر میں اور رعایا کی نظر میں ،