خطبات محمود (جلد 19) — Page 96
خطبات محمود ۹۶ سال ۱۹۳۸ء ہم جب یہ کہتے ہیں کہ ہم احمدی ہیں تو ہماری مثال اُس امین کی سی ہوتی ہے جو کہتا ہے ہاں جی امانت میرے پاس ہے۔آپ بخوشی لے لیں۔مگر کیا کسی کا صرف منہ سے یہ الفاظ کہہ دینا اسے اپنے فرض سے سبکدوش کر سکتا ہے؟ جبکہ حقیقت یہ ہو کہ اس سے جب امانت طلب کی جائے تو وہ بجائے روپیہ دینے کے ٹھیکریاں اور ایسی ہی اور رڈی چیزیں جنہیں غلاظت لگی ہوئی ہو ، پیش کر نے لگ جائے اور جبکہ واقعہ یہ ہو کہ بسا اوقات جس چیز کا نام وہ ایمان رکھتا ہے وہ منافقت ہوتی ہے، جس چیز کا نام وہ قربانی رکھتا ہے وہ ریاء ہوتی ہے اور جس چیز کا نام وہ حزم اور احتیاط رکھتا ہے وہ سستی اور غفلت ہوتی ہے اور وہ ان ٹھیکریوں کو پیش کر کے چاہتا ہے کہ میری تعریف ہو۔میرے متعلق یہ کہا جائے کہ یہ سلسلہ کا بڑا دیانتدار اور امین کا رکن ہے اور اپنے فرائض کو خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کرنے والا سپاہی ہے حالانکہ ان باتوں سے کام نہیں چلتا۔جب ایک معمولی عقل و فہم کا مالک انسان بھی ایسی باتوں سے دھوکا نہیں کھا سکتا تو خدائے عالم الغیب ان باتوں سے کب دھوکا کھا سکتا ہے اور پھر انبیاء کی جماعتوں کا تو ایک مقررہ طریق ہوتا ہے۔اس طریق سے اگر وہ بال بھر بھی ادھر اُدھر ہوں تو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں۔اور میں نے نہ ایک دفعہ بلکہ بارہا بتایا ہے کہ جب تک ہماری جماعت ان طریقوں پر نہیں چلے گی سلسلہ کی خدمت کبھی بھی وہ صحیح معنوں میں نہیں کر سکتی۔ابھی تک ہمارا بہت سا نظام موجودہ زمانہ کے مغربی اثر سے متاثر اور اسی کے تابع ہے اور ہمارے زیادہ تر کام مغربی امور کی نقل ہیں۔اسلامی اصول ابھی تک ہم اپنے نظام میں بھی جاری نہیں کر سکے۔مثلاً تحریک جدید ہے۔اس کے شروع ہی میں میں نے کہا تھا کہ اس میں ملازمتوں پر بنیاد نہیں رکھی جائے گی۔چنانچہ اس اصل پر یہ کام ایک حد تک چلا یا جا رہا ہے اور اب تحریک جدید کے دوسرے دور میں ان شرائط کو اور بھی مستحکم کر دیا گیا ہے۔مگر تحریک جدید سلسلہ کے شعبہ جات میں سے ایک بہت چھوٹا سا شعبہ ہے۔اس میں بے شک اور رنگ میں کام شروع ہے مگر سلسلہ کے باقی تمام کام ویسے ہی چل رہے ہیں جیسے یورپ میں انجمنیں چلا کرتی ہیں۔تنخواہ دار ملازموں کا ایک لمبا سلسلہ ہے۔ان کے باقاعدہ گریڈ ہیں اور ان کو ہر سال ترقیاں ملتی ہیں حالانکہ انبیاء کی جماعتوں میں کوئی ایک مثال بھی اس قسم کی انجمنوں کی نہیں ملتی جن میں کی