خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 944 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 944

خطبات محمود ۹۴۴ سال ۱۹۳۸ء بیعت کر سکتے ہیں۔مگر نقص یہ ہے کہ جو دوست انہیں اپنے ہمراہ لاتے ہیں وہ ان کی نگرانی نہیں کی کرتے۔اگر وہ نگرانی رکھیں اور انہیں جلسوں اور لیکچروں میں توجہ سے بٹھا ئیں تو اسی توے فیصدی بلکہ سو فیصدی کی بیعت کی امید کرنا بے جا نہ ہوگا۔مگر ابھی ان غیر احمدی دوستوں کو اپنے ہمراہ لانے والے اس امر کی طرف صحیح متوجہ نہیں ہوئے کہ ان کا کوئی وقت ضائع نہ ہونے دیں اور کوشش کریں کہ وہ جلسہ سے پورا فائدہ اٹھائیں لیکن پھر بھی میں نے دیکھا ہے کہ پچاس کی فیصدی لوگ بیعت کر کے ہی واپس جاتے ہیں۔بعض لوگ پہلے دن سے ہی شکایت کرتے ہیں کی کہ ہم فلاں غیر احمدی دوست کو اپنے ہمراہ لائے تھے مگر وہ متاثر نہیں ہوا لیکن دوسرے ہی دن وہ پھر آجاتے ہیں اور کہتے ہیں آج آپ کی تقریرین کر یا دوسرے دوستوں کی تقریریں سن کر ان کی کا سینہ کھل گیا ہے۔ان کی بیعت لی جائے اور جو دوسرے دن بھی رہ جاتا ہے اس کا تیسرے دن سینہ کھل جاتا ہے اور وہ بیعت کر لیتا ہے۔پس یہاں آنے کے بعد بہت سے لوگوں کے دل کھل جاتے ہیں اور سوائے ان کے جو بھاگ جائیں۔باقیوں میں سے اکثر بیعت کر کے ہی واپس لوٹتے ہیں لیکن کئی ایسے ہوتے ہیں جو سالہا سال آتے رہتے ہیں اور بیعت نہیں کرتے آخر کئی سالوں کے بعد وہ بیعت میں شامل ہوتے ہیں۔چنانچہ اسی سال ایک صاحب نے بتایا کہ میں آٹھ سال سے جلسہ سالانہ پر آ رہا ہوں مگر بیعت کی مجھے آج توفیق ملی ہے۔ایک اور صاحب نے بتایا کہ میں تین چار سال سے آ رہا ہوں اور باقاعدہ ہر جلسہ میں شامل ہوتا رہا ہوں لیکن بیعت میں آج کر رہا ہوں۔تو ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو سالہا سال آتے رہتے ہیں اور بیعت میں شامل نہیں ہوتے لیکن ایسے لوگوں کو بھی دراصل بیعت میں ہی سمجھنا چاہئے کیونکہ جب وہ ایک دفعہ یہاں آئے تو پھر وہ اس بات پر مجبور ہو گئے کہ یہاں بار بار آئیں اور وہ ہر دفعہ ہم سے کچھ لینے کے لئے آموجود ہوئے۔پس گو وہ بیعت میں شامل نہ تھے مگر ان کا معاملہ ایسا ہی تھا جیسے بیعت والوں کا ہوتا ہے انہوں نے بھی جب قادیان کو دیکھا تو پھر وہ اسے چھوڑ نہ سکے اور اس بات پر مجبور ہوئے کہ بار بار یہاں آئیں۔تو یہ تجربہ جو اس دفعہ ہندوؤں اور سکھوں کے متعلق ہوا ہے نہایت ہی کامیاب رہا ہے اور ضرورت ہے کہ اس پر زیادہ زور دیا جائے۔یہ ایک نیا تجربہ ہے اور اس