خطبات محمود (جلد 19) — Page 937
خطبات محمود ۹۳۷ سال ۱۹۳۸ء پانچ روپے ایک آنہ دے کر بھی ہو سکتی ہے بلکہ پانچ روپے ایک پیسہ دے کر بھی ہو سکتی ہے اور اگر صرف ایک پیسہ کو زیادتی کی وجہ سے کوئی شخص اَلسَّابِقُونَ الْاَوَّلُون میں شامل ہو سکتا ہو تو کیا ی یہ نادانی نہیں ہوگی کہ دس روپے چندہ دینے والا ہمیشہ دس روپے ہی دیتا رہے یا سو روپے چندہ دینے والا ہمیشہ سور و پیہ ہی دیتا ر ہے اور نہایت معمولی سی زیادتی کر کے وہ اَلسَّابِقُونَ الْأَوَّلُون میں شامل نہ ہو جائے۔ہماری جماعت کے ایک دوست ہیں جو نہایت ہی مخلص اور سادہ طبیعت کے ہیں کئی موقعوں پر میں نے ان میں سلسلہ سے اخلاص اور محبت کا تجربہ کیا ہے انہوں نے گزشتہ سال کی ۱۱۵ روپے چندہ میں دیئے اس سال پھر انہوں نے ۱۱۵ روپے کا وعدہ کیا اس پر میں نے انہیں کی لکھا کہ آپ بڑی آسانی سے اس سال ۱۱۶ روپے دے کر السَّابِقُونَ الْاَوَّلُون میں شامل ہو سکتے ہیں چنانچہ گو میں نے انہیں ایک روپیہ کی زیادتی کیلئے ہی مشورہ دیا تھا مگر انہوں نے جوش اخلاص میں اپنے وعدہ کو اور زیادہ بڑھا دیا۔تو بعض لوگ اصل حقیقت کو سمجھے نہیں وہ سمجھتے ہیں شاید اگر ہم نے ایک سال پانچ روپے چندہ میں دیئے ہیں تو دوسرے سال جب تک دس روپے نہیں دیں گے زیادتی نہیں سمجھی جائے گی حالانکہ ہمیں تو ایمان کی زیادتی کا ثبوت چاہئے خواہ وہ ایک پیسہ سے ہو خواہ ایک آنہ سے ہو، خواہ دو آنہ سے ہو، خواہ تین آنہ سے ہو، خواہ چار آنہ سے ہوا اور خواہ وہ دس ہیں یا سود و سو روپیہ کے ذریعہ سے ہو۔تو کمی کرنے والوں کی حکمت میری سمجھ میں آجاتی ہے کیونکہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتے اور ہماری مالی حالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم زیادتی کریں مگر جو ہر سال یکساں چندہ دیتے ہیں ان کے اس فعل کی حکمت میری سمجھ سے بالا ہے جبکہ وہ نہایت ہی معمولی زیادتی کر کے السَّابِقُونَ الْأَوَّلُون میں شامل ہو سکتے ہیں مثلاً وہ شخص جس نے سات سالہ دور میں سے پہلے سال پانچ روپے چندہ دیا ہے وہ اگر ہر سال قاعدہ کے مطابق دس فی صدی کمی کرتا اور آخری تین سالوں میں چالیس کی فیصدی کمی پر ٹھہر کر دو سال مسلسل چندہ دیتا تو وہ نو روپے بچاتا ہے دس روپے دینے والا سات سال میں اس کمی کے نتیجہ میں اٹھارہ روپے بچاتا ہے، ہمیں روپے دینے والا چھتیس روپے بچاتا ہے اور اگر کوئی سوروپے دینے والا تھا تو وہ سات سال میں ایک سواسی روپے بچاتا ہے۔