خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 923 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 923

خطبات محمود ۹۲۳ سال ۱۹۳۸ء نماز پڑھ لوں گا۔یا وہ کام تو نہیں کر رہا مگر دوستوں کی مجلس میں بیٹھا باتیں کر رہا ہے اور خیال کرتا ہی ہے کہ اس مجلس کو چھوڑ کر کیا جانا ہے پھر پڑھ لوں گا تو اس قسم کے حالات کے ماتحت نماز کو ترک کرنے والا ہرگز مؤمن کہلانے کا مستحق نہیں۔ہاں اس کے بعد اگر اس کے دل میں ندامت محسوس ہو، حسرت پیدا ہو اور وہ سچے دل سے تو بہ کر کے خدا تعالیٰ کے حضور عرض کرے کہ میرا ایمان ضائع ہو چکا ، میں اسلام سے نکل گیا مگر اب دوبارہ داخل ہوتا ہوں تو پھر وہ دوبارہ داخل اسلام سمجھا جائے گا لیکن اس کی پہلی حالت غیر مومن کی سمجھی جائے گی مگر نماز کی اس اہمیت کا احساس بھی ابھی ہماری جماعت میں پیدا نہیں ہوا ، گو میں سمجھتا ہوں کہ اکثر دوست ایسے ہیں جن کے دلوں میں یہ احساس ہے کیونکہ غیر لوگ جو طرح طرح کے اعتراضات احمدیوں پر کرتے رہتے ہیں وہ یہ اعتراض نہیں کرتے کہ یہ نماز نہیں پڑھتے بلکہ اکثر معترض تسلیم کرتے ہیں کہ نمازیں تو یہ ضرور پڑھتے ہیں مگر ہیں کا فر۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیرونی احمدیوں کے متعلق کی لوگوں کا یہی تجربہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں۔ورنہ جہاں دشمن اور اعتراض کرتے ہیں وہاں یہ بھی ضرور کرتے۔احمدیوں کے معاملات کی خرابی کے متعلق اعتراضات میں نے سنے ہیں۔کسی ایک احمدی نے کسی کے ساتھ بد معاملگی کی تو وہ ساری جماعت کو ہی بد معاملہ قرار دے دیتا ہے یا کسی نے جھوٹ بول دیا تو لوگ کہہ دیتے ہیں کہ احمدی جھوٹ بولتے ہیں لیکن یہ اعتراض نہیں کرتے کہ احمدی نماز نہیں پڑھتے۔نا واقعی سے یا جھوٹ بول کر بعض لوگ یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ قادیان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں مگر نماز نہ پڑھنے کی کوئی شکایت نہیں کرتا بلکہ عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ احمدی نمازی ہوتے ہیں۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے میرے ایک عزیز کے متعلق ایک دوست نے لکھا کہ ایک جگہ بعض افسروں میں یہ ذکر ہو رہا تھا کہ فلاں نوجوان ہے مگر داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ایک افسر نے کہا کہ یہ قادیان کا ہے اور پھر میرے ساتھ اس کا رشتہ بتایا اس پر ایک افسر نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی نو جوان داڑھی رکھتا ہے تو میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ یہ یا تو یوپی سے آیا ہے اور یا پھر قادیانی ہے۔پھر اس نے ایک لمبی تقریر کی اور کہا کہ قادیانی لوگ نمازیں باقاعدہ پڑھتے ہیں، دین کے دوسرے احکام پر بھی عمل کرتے ہیں مگر