خطبات محمود (جلد 19) — Page 924
خطبات محمود ۹۲۴ سال ۱۹۳۸ء افسوس کہ ہیں دین سے خارج اور کافر حالانکہ اس آخری فقرہ کے کہہ دینے سے کیا ہوتا ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص کہے کہ سورج کی ٹکیا تو سر پر نظر آتی ہے ، دھوپ بھی نکلی ہوئی ہے، گرمی بھی محسوس ہوتی ہے، تاریکی کا کہیں نام نہیں مگر عجیب بات ہے کہ ہے ابھی رات۔ظاہر ہے کہ ایسے شخص کے منہ سے صرف یہ کہہ دینے سے کہ ابھی رات ہے کون مانتا ہے کہ یہ سچ کہہ رہا ہے یہ بات تو کوئی شخص سارا دن کہتا رہے پھر بھی کوئی نہیں مانے گا۔تو احمد یوں میں نماز کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی حد تک احساس ہے مگر ابھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو نماز کے نیم تارکی ہیں اپنے نزدیک اور کھی تارک ہیں میرے نزدیک کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے میرا عقیدہ یہی ہے کہ جو شخص ایک نماز بھی جان بوجھ کر ساری عمر میں چھوڑتا ہے وہ کافر ہے۔چاہے وہ دس سال یا بیس سال مسلسل نمازیں پڑھنے کے بعد ہی کیوں نہ ایک نماز چھوڑے اور اپنے دل میں یہ سمجھ رہا ہو کہ میں نمازی ہوں میرے نزدیک ایسا شخص بالکل احمق ہے۔نماز کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے بعض لوگ بٹیرے پکڑتے ہیں اور پکڑنے کے بعد جو بٹیروں کے شکاری ہوتے ہیں وہ ان کو پنجروں میں بند رکھتے ہیں۔جب اس پنجرہ کا دروازہ کھل جائے اور ان میں سے ایک کو نکلنے کا موقع ملے تو باقی بھی سب نکل جائیں گے۔یہی حال نماز کا ہے، ایک نماز کے نکل جانے کا یہ مطلب ہے کہ دل کی کھڑ کی کھلی رہ گئی اور جب ایک کو نکلنے کا موقع ملا تو سب پھر کر کے نکل جائیں گے جس دن دروازہ کھلا رہ گیا اس دن یہ خیال کرنا کہ صرف ایک ہی نماز گئی ہے باقی سب موجود ہیں بالکل احمقانہ خیال ہے اسی دن سب اُڑ جائیں گی اور واپس نہیں آسکیں گی۔ہاں تو بہ ان کو واپس لاسکتی ہے۔بٹیرے تو نکل جانے کے بعد بعض اوقات پکڑے بھی جاتے ہیں مگر نماز جب ایک گئی سب جائیں گی اور پھر خدا تعالیٰ ہی واپس دے تو آسکتی ہیں ورنہ نہیں اور اگر انسان صدق دل سے تو بہ کرے تو خدا تعالیٰ واپس دے دیتا ہے بغیر تو بہ کئے واپس نہیں آسکتیں۔تو نماز ایک نہایت اہم چیز ہے اور اس لئے ہمارے نزدیک کی مساجد بہت زیادہ اہم ہونی چاہئیں۔بعض لوگوں نے مسجد میں نمائش کے لئے بنائی ہیں اور آج کی وہ اسی کام آ رہی ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ چھ سات فٹ کی نہایت چھوٹی گلیوں میں ایک مسجد گلی کے ایک طرف ہے اور دوسری دوسری طرف حالانکہ جہاں تک اذان کی آواز جائے تو