خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 917 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 917

خطبات محمود ۹۱۷ سال ۱۹۳۸ء ایسے لوگوں کو تحریک جدید کے ماتحت ہی ٹریننگ دی جائے گی اور تحریک جدید کے ماتحت ہی انہیں تعلیم دی جائے گی اور جب وہ ٹریننگ حاصل کر لیں گے تو انہیں مختلف گاؤں میں مقرر کر دیا کی جائے گا۔اُن کے وہاں کیا کام ہوں گے؟ یہ بعد میں بتایا جائے گا۔سر دست میں اسی قدر بتا سکتا ہوں کہ اُن سے زیادہ تر ایسا کام لیا جائے گا جو ہاتھ سے کرنے والا ہوگا کیونکہ گاؤں میں ایسے لوگ کبھی مفید نہیں ہو سکتے جو صرف کتابی حد تک اپنی کوششوں کو محد و در کھنے والے ہوں بلکہ کتابی حد تک کام کرنے والے بالعموم گاؤں والوں کے کیریکٹر کو بگاڑ دیتے ہیں۔گاؤں والوں کی ترقی اس شخص کے ذریعہ ہو سکتی ہے جو انہی میں سے ہو ان کے ساتھ مل کر ہل چلائے ، ان کے ساتھ مل کر بڑھئی کا کام کرے اور اُن کے ساتھ مل کر لوہارہ کا کام کرے اور پھر اس کے ساتھ ہی انہیں تعلیم بھی دیتا چلا جائے اور انہیں تبلیغ بھی کرتا چلا جائے۔جب تک گاؤں والوں کے سامنے اس رنگ میں کام نہ کیا جائے اُس وقت تک نہ صرف ان کی ترقی نہیں ہو سکتی بلکہ اُن میں پستی رونما ہونے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے مثلاً مدرسہ لگا ہو اور اُستاد کے منہ میں حقہ کی نالی ہوا ور وہ بیٹھا گئیں ہانکتا چلا جارہا ہو تو ایسے شخص کے نمونہ کو دیکھ کر لوگوں نے کیا ترقی کرنی ہے۔وہ تو اُس کے بُرے نمونہ کو دیکھ کر اپنی اچھی عادتوں کو بھی ترک کر دیں گے لیکن اگر یہ اُن کے ساتھ ہی ہل چلا رہا ہو اور ساتھ ہی یہ بتاتا جاتا ہو کہ تمہارے بیچ میں یہ نقص ہے مگر میرے بیج میں یہ خوبی ہے یا میرا بل اچھا ہے اور تمہارے بل میں وہ نقص ہے۔تو یہ مدرس پہلے مدارس سے زیادہ مفید اور زیادہ نفع بخش ثابت ہو گا۔پس میری اس تحریک پر جو لوگ اپنے آپ کو پیش کرنے والے ہوں وہ بیس سے چالیس سال تک کی عمر کے ہوں ، ہاتھ سے کام کرنے والے ہوں اور محنت کے لئے تیار ہوں ہم ایسے لوگوں کو گزارہ بھی اسی صورت میں دیں گے یعنی ہم روپیہ کی صورت میں انہیں تنخواہ نہیں دیں گے بلکہ کام کی صورت میں دیں گے تا کہ وہ گاؤں والوں کے لئے نیک نمونہ بنیں اور ان کی ترقی اور اقبال مندی کا موجب ہوں۔اسی طرح ان کے ذریعہ گاؤں والوں کو اصلاح دیہات کے طریق بتاتے جائیں گے۔کئی پیشے سکھائے جائیں تی گے اور کئی ترقی کی تدابیر بتائی جائیں گی۔غرض یہ گاؤں میں اس طرح رہیں گے جس طرح باپ اپنے بچوں میں رہتا ہے اور یہ اپنا بھی گزارہ کریں گے اور دوسروں کو بھی ایسے پیشے