خطبات محمود (جلد 19) — Page 916
خطبات محمود ۹۱۶ سال ۱۹۳۸ء۔بہت سی درخواستیں مولوی فاضلوں اور گریجوایٹوں کی آرہی ہیں مگر ابھی اور بھی بہت سے نوجوانوں کی ضرورت ہے۔اس لئے جو دوست مولوی فاضل یا گریجوایٹ ہوں اور وہ بلا شرط اپنی تمام زندگی خدمت اسلام اور خدمتِ احمدیت کے لئے وقف کرنے کی خواہش رکھتے ہوں، وہ اپنے نام جلد سے جلد پیش کریں۔درخواستوں کی ایک کافی تعداد جب ہمارے پاس پہنچ جائے گی تو اس کے بعد اُن میں سے مناسب نوجوانوں کا انتخاب کیا جائے گا لیکن اس دوران کی میں ایک اور تجویز میرے ذہن میں آئی ہے اور میں اُس کا بھی آج اعلان کر دینا چاہتا ہوں اور وہ تجویز یہ ہے کہ ان مولوی فاضلوں اور گریجوایٹوں کے علاوہ چند ایسے آدمیوں کی بھی ضرورت ہے جو عمر کے لحاظ سے میں سے چالیس سال تک کے ہوں۔مڈل پاس ہوں اور شادی شدہ ہوں یا اُن کی شادی کی کہیں تجویز ہو چکی ہو اور چھ ماہ یا سال میں ان کی شادی ہو جانے والی ہو یہ جو واقفین زندگی ہوں گے ان کو گاؤں میں رکھا جائے گا۔پس یہ ایسے ہی آدمی ہونے چاہئیں جو محنت کرنے اور ہاتھ سے کام کرانے کے لئے تیار ہوں۔ان سے کام زیادہ تر مدر سی کا لیا جائے گا لیکن ان کو جو ٹرینگ اور تربیت دی جائے گی اُس میں زراعت کا سب قسم کا کام جیسے ہل چلانا، نلا ئی کرنی ، فصل کاٹنی نیز اس کے علاوہ لوہارہ اور بڑھئی کا کام بھی ان کو سکھایا جائے گا اور جب ٹریننگ کے بعد ان کو کہیں کام پر مقرر کیا جائے گا تو اس وقت بھی یہ کام بدستور جاری رہیں گے اور بعد میں بھی ہل چلانے کا کام اور لوہارے اور ترکھانے کا کام ان کے ساتھ لگا رہے گا۔فی الحال ایسے چھ آدمیوں کی ضرورت ہے۔ہماری جماعت میں بہت سے دوست ایسے ہیں جو مجھے لکھتے رہتے ہیں کہ ہم زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہماری تعلیم مڈل یا انٹرنس تک ہے مگر ہمیں بھی دین کی خدمت کا شوق ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اگر خدمت دین کا کوئی موقع ہو تو ہمیں اس سے محروم نہ رکھا جائے۔ایسے لوگوں کے لئے اب موقع ہے کہ وہ اپنے آپ کو پیش ریں۔چاہے وہ مڈل پاس ہوں اور چاہے انٹرنس پاس دونوں صورتوں میں وہ اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہیں مگر کم سے کم انہیں مڈل پاس ضرور ہونا چاہئے کیونکہ اُن کا ایک کام مدرسی بھی ہوگا۔میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس تجویز کے مطابق ایک ایسی سکیم سوچ لی ہے کہ اگر وہ کامیاب ہو گئی تو ہم بہت قلیل عرصہ میں تعلیم و تربیت کا ایک وسیع جال دُنیا میں پھیلا سکتے ہیں۔