خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 891 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 891

خطبات محمود ۸۹۱ سال ۱۹۳۸ء وجہ یہ ہوئی کہ میں سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کسی نے آکر مجھے جگایا ہے۔خواب میں کی ہی میری آنکھ کھلی تو پوچھا آپ کون ہیں تو معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔میں نے عرض کیا کہ کیا حکم ہے تو آپ نے فرمایا۔ہارون الرشید یہ کیا بات ہے کہ تم آرام سے سو رہے ہو اور ہمارا بیٹا قید خانہ میں ہے یہ سن کر مجھے پر ایسا رعب طاری ہوا کہ اسی وقت رہائی کے احکام بھجوائے انہوں نے کہا کہ اس روز مجھے بھی قید خانہ میں بڑا کرب تھا ، اس سے پہلے مجھے بھی کبھی رہائی کی خواہش نہ پیدا ہوئی تھی۔تو ہم ایسے ہزاروں لاکھوں بیانوں کو کس طرح جھٹلا سکتے کی ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے خدا تعالیٰ کی قدرت کے متعلق کس طرح شبہ کر سکتے ہیں۔وہ ضرور قادر ہے مگر ہمیں چاہئے کہ اس کی قدرت کو جنبش دینے والے اور اس کی رحمت کو اپنے اندر جذب کرنے والے بنیں۔پس میں احباب کو پھر نصیحت کرتا ہوں کہ ان اہم ایام کی قدر کر و مصائب اور فتن جتنے زیادہ کی ہوں گے اتنے ہی قرب الہی کے رستے نزدیک ہوں گے اور میں توجہ دلاتا ہوں کہ دوست ایک طرف تو مالی طور پر قربانی کریں اور دوسری طرف جسمانی لحاظ سے اور مکانوں کو دینے کے لحاظ سے بھی زیادہ سے زیادہ حصہ لیں تم میں سے بیسیوں شریف الطبع ایسے ہوں گے کہ گزشتہ سالوں میں پہلے تو انہوں نے چندہ دینے یا مکانات دینے میں بخل سے کام لیا ہوگا مگر جلسہ کے ایام گزرنے کے بعد ان کے دل میں ایک ٹیس اٹھی ہوگی اور انہیں احساس ہوا ہوگا کہ اگر ہم یہ معمولی سی قربانی کر دیتے تو کیا اچھا ہوتا آخر یہ تین چار روز گزر ہی گئے۔میں مان نہیں سکتا کے تم میں سے جس سے کوتاہی ہوئی ہو اور اس کے اندر شرافت موجود ہو اس کے دل میں یہ درد نہ اٹھا ہو۔ضرور اس کے دل میں بعد میں کرب پیدا ہوا ہوگا۔ایسے لوگوں کے لئے اپنی حسرتیں پوری کرنے کا آج موقع ہے اور میں انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے پھر انہیں کی موقع دیا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔اسی طرح میں بیرونی جماعتوں کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بوجھوں کی وجہ سے وہ کمزوری محسوس نہ کریں اور اس وجہ سے یہاں آنے یا مالی بوجھ اٹھانے میں کوئی کمی نہ کریں۔کون کہہ سکتا ہے کہ اسے یہ دن دیکھنے نصیب ہوں گے یا نہیں اور اگر اس دفعہ ہوئے تو آئندہ ہوں گے یا نہیں کی