خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 892 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 892

خطبات محمود ۸۹۲ سال ۱۹۳۸ء اس لئے ثواب حاصل کرنے کا جو موقع بھی انہیں ملا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسی طرح کی قادیان کے لوگوں سے بھی یہ کہتا ہوں کہ وہ مالی لحاظ سے بھی ، مکانات دینے کے لحاظ سے بھی اور خدمات بجالانے کے لحاظ سے بھی زیادہ سے زیادہ حصہ لیں ، اسی طرح دوسری تحریکات میں بھی حصہ لیں۔بے شک بوجھ زیادہ ہیں مگر ہماری ہی کوتاہیوں کے نتیجہ میں یہ فتنے پیدا ہوتے ہیں اور انہیں روکنے کا ذریعہ یہی ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ قربانیاں کریں اور باہر کے دوستوں کی سے بھی یہ کہتا ہوں کہ ان کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں ، وہ ہوشیار ہو جائیں اور اپنی کمریں کس کی لیں۔اس وقت دنیا کی نگاہیں ہم پر پڑ رہی ہیں اور لوگ دیکھ رہے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کے سپاہی کیا قربانیاں پیش کرتے ہیں اس لئے دوستوں کو خدا تعالیٰ کے سپاہیوں جیسا نمونہ پیش کرنا چاہئے اور یہ ثابت کر دینا چاہئے کہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کا جذبہ اس سے بہت زیادہ ہے جو د نیوی سپاہی اپنے ملک کے لئے کرتے ہیں۔اگر انہوں نے یہ ثابت نہ کر دیا کہ ان کے دلوں میں قربانی کا بے انتہا جذبہ موجود ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی ہتک کرانیوالے ہوں گے کیونکہ دنیا کہے گی کہ ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی اتنی بھی قدر نہیں جتنی جاپان، جرمنی اور اٹلی کے سپاہیوں کے دلوں میں اپنے وطن کی قدر ہے۔“ الفضل ۱۶ / دسمبر ۱۹۳۸ء) ، وكذلك جعلتكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (البقرة : ۱۴۴) بخاری کتاب التفسير باب قولهِ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِعِيْنَ (الخ) يَقُولُوت انّ بُيُوتِنَا عَوْرَةً ، وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ ان يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا (الاحزاب : ۱۴) ه الاحزاب : ۲۴ سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحه ۸۸ مطبوعه مصر ۱۹۳۶ء