خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 890 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 890

خطبات محمود ۸۹۰ سال ۱۹۳۸ء پی رہے ہیں یا بعض مائیں جن کے بچے فوت ہو جاتے ہیں وہ نیند میں اپنے پستان پکڑ کر اس طرح دودھ پلاتی ہیں کہ گویا ان کا بچہ ساتھ سویا ہوا ہے، انہیں دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ طبعی محبت کیا ہے۔اس میں کسی کوشش کا دخل نہیں ہوتا اور یہی محبت اور تعلق ہے جو سچی قربانی کراتا ہے اور کچی قربانی ہی ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کا پیارا بنا دیتی ہے۔بعض اوقات جاہل اور ان پڑھ لوگ بھی اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو پالیتے ہیں۔میں نے منشی اروڑہ صاحب کا ذکر کیا ہے وہ بالکل معمولی تعلیم رکھتے تھے مگر انہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اخلاص تھا اور اسی کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظروں میں ان کی بڑی قدر تھی ان کی کمی علم کو دیکھ کر ایک دفعہ لوگ ان کو مولوی ثناء اللہ صاحب کے لیکچر میں لے گئے۔وہ تقریر کرتے رہے اور یہ بیٹھے رہے۔لوگوں نے پوچھا کچھ اثر ہؤا اگر نہیں ہوا تو جواب دو۔کہنے لگے یہاں تو جواب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میں نے تو مرزا صاحب (علیہ السلام) کا منہ دیکھا ہوا ہے کوئی خواہ سال بھر بیٹھا ان کے خلاف تقریریں کرتا رہے میں تو ان سب کے جواب میں صرف یہی کہوں گا کہ وہ منہ جھوٹوں والا نہیں تھا۔مجھ پر کسی تقریر کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا کیونکہ میں نے خود ان کو دیکھ لیا تی ہے۔آفتاب آمد دلیل آفتاب۔سورج آپ اپنی سچائی کی دلیل ہوتا ہے۔اس کے لئے اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔مرزا صاحب کو دیکھنے کے بعد ان کی صداقت کے لئے اور کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔سب تقریریں سن کر میں زیادہ سے زیادہ یہ کہوں گا کہ تم بڑے لستان ہو۔باتیں خوب بنا لیتے ہو مگر میں نے جب اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ لیا تو کس طرح جھٹلا سکتا ہوں۔تو جہاں دل میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص پایا جاتا ہو وہاں وہ آپ ہی آپ ان لوگوں کی حفاظت کرتا ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہوا ہے کہ ایک دفعہ غالباً ہارون الرشید کے زمانہ میں ایک بزرگ جو اہلِ بیت میں سے تھے اور جن کا نام موسی رضا تھا۔اس بہانہ سے قید کر دیئے گئے کہ ان کی وجہ سے فتنہ کے پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ایک دفعہ آدھی رات کے وقت ایک شخص ان کے پاس قید خانہ میں رہائی کا حکم لے کر پہنچا۔وہ بہت حیران ہوئے کہ میں تو سیاسی قیدی تھا پھر اس طرح میری فوری رہائی کس طرح ہو گئی۔وہ بادشاہ سے ملے تو اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے کہ آپ نے مجھے اس طرح یکا یک رہا کر دیا۔اس نے کہا کہ کی