خطبات محمود (جلد 19) — Page 861
خطبات محمود ۸۶۱ سال ۱۹۳۸ء بڑی اکثریت کو اُن سے ہمدردی ہے اور وہ انہیں مسلمان کہہ کہہ کر خوش کرتے رہتے ہیں۔پس ی دنیوی طاقت کے لحاظ سے بے شک وہ ہم سے بڑھے ہوئے ہیں مگر ہمارا اور ان کا مقابلہ دُنیوی طاقت سے نہیں یہ کوئی جسمانی لڑائی بھڑائی نہیں جس میں عدد اور شمار کا سوال زیادہ اہمیت رکھ سکتا ہو۔یہ الہی مدد اور الہی گرفت کا سوال ہے۔وہ جانتے ہیں کہ جو باتیں آج مصری صاحب میرے متعلق کہہ رہے ہیں ایسی ہی باتیں اُن کی پارٹی کے بعض آدمی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہا کرتے تھے۔پس اگر ایسی باتیں کہنا کوئی ثبوت ہوتا ہے تو پھر انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی چھوڑ دینا چاہیے اور ان کو معلوم ہے کہ ایسی ہی باتیں پہلے انبیاء وخلفاء اور خدا تعالیٰ کے مقدس اور پاک لوگوں کے متعلق ان کے دشمن کہتے چلے آئے ہیں۔وہ مبالغہ سے بھی کام لیتے رہے ہیں، وہ جھوٹ سے بھی کام لیتے رہے ہیں ، وہ دھوکا اور فریب بھی استعمال کرتے رہے ہیں اور ہزاروں ترکیبیں اپنی فتح کی ایجاد کرتے رہے ہیں مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔اسی طرح اب انشاء اللہ دنیا دیکھ لے گی کہ میرے مخالف کا میاب نہ ہوں گے اور کی اللہ تعالی با وجود ان باتوں کے انہیں میری طرف کھینچ کھینچ کر لاتا جائے گا اور میرے ذریعہ سے انشاء اللہ احمدیت اور اسلام کی ترقی دنیا کے چاروں گوشوں میں ہوتی جائے گی اور دشمن حسد کی آگ میں جلتا چلا جائے گا۔مجھے افسوس ہے کہ پہلے لوگوں کے حالات مولوی صاحب کے سامنے ہیں مگر باوجود اس کی کے وہ گند میں پتھر مارنے سے باز نہیں آتے۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہے جاتے ہیں کہ ہمیں ڈر ہے یہ باتیں مشہور نہ ہو جائیں۔حالانکہ ان کیچڑ اچھالنے والوں کو چندہ دینے والے بالعموم پیغامی ہی ہوتے ہیں۔چند سال پہلے جب مستریوں کی طرف سے شورش اُٹھی تھی تو اس وقت بھی ان لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ ہم نے ان کے لٹریچر کی اشاعت میں کوئی حصہ نہیں لیا۔کی مگر بغداد سے بعض دوستوں نے لکھا ہے کہ یہ غلط ہے۔خو د احمد یہ بلڈنگز سے ایک غیر مبائع کو ایسا لٹریچر آتا رہا ہے اور جہاں تک مجھے یاد ہے اس غیر مبائع نے اس کی تصدیق بھی کر دی تھی۔میرا خیال ہے کہ یہ شہادت اُنہی دنوں الفضل میں بھی شائع کرا دی گئی تھی۔اسی طرح ہمارے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ ان کی انجمن کے بعض افسروں نے اپنے کلرکوں کو