خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 862 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 862

خطبات محمود ۸۶۲ سال ۱۹۳۸ء۔رفعے لکھے ہیں کہ فلاں شخص مثلاً مستری عبد الکریم کو اتنے روپے دے دو۔ایک شخص ان لوگوں کی میں سے باغی ہو کر الگ ہو گیا تھا۔اس نے ان کی انجمن کے تمام ریزولیوشنوں کی نقل اور اُن کی چٹھیوں کی کا پیاں تک مجھے بھجوا دیں وہ غالباً محاسب کے عہدہ پر کام کر چکا تھا۔تو یہ درست نہیں کہ یہ لوگ ہمارے مخالفوں کی مدد نہیں کرتے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ خود انہیں اُکتاتے ہیں۔خود ان کی مدد کرتے ہیں خود ان کی باتوں کو پھیلاتے ہیں اور روپے والے ان کی روپوں سے مدد کرتے ہیں۔چنانچہ پچھلے جلسہ سالانہ کے موقع پر ہی لائل پور کا ایک پیغامی یہاں آیا اور اس نے ایک معقول رقم انہیں مدد کے طور پر دی اور وعدہ کیا کہ اگر ان کا کوئی آدمی لائل پور آئے تو وہ اور بھی مدد کر دیں گے۔اسی طرح اور لوگ بھی ان کی مدد کرتے رہتے ہیں اور جب یہ معترض وہاں جاتے ہیں تو وہ ان کی کافی مدد کرتے رہتے ہیں۔پس یہ غلط ہے کہ ان باتوں کے پھیلنے سے ان کو رنج ہوتا ہے حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں کے پھیلانے میں ان کا حصہ ہوتا ہے۔لیکن ہمیں ان باتوں پر کوئی غصہ نہیں۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں اس قسم کی باتیں کرنے والا زیادہ دیر تک لوگوں میں اپنی حیثیت قائم نہیں رکھ سکتا۔آخر کب تک یہ حقیقت لوگوں کی نظر سے مخفی رہ سکتی ہے کہ ایک طرف تو یہ خود فتنہ کھڑا کر یں۔خود اس فتنہ کی آگ کو ہوا دیں خود فتنہ پردازوں کی مدد کریں، خود ان کی باتوں کو لوگوں میں پھیلائیں اور پھر بڑے ناصح اور مشفق بن کر کہنے لگ جائیں کہ ہمیں ان باتوں کا سخت صدمہ ہے اور ہمیں ڈر ہے کہ یہ باتیں کہیں پھیل نہ جائیں تو یہ بات دنیا کے علم سے زیادہ دیر با ہر نہیں رہ سکتی لیکن میں سمجھتا ہوں کوئی وقت ایسا بھی آ جایا کرتا ہے جب کہ عفو کرنا جائز نہیں ہوتا۔پس ممکن ہے ہم پر بھی کبھی وہ وقت آ جائے جب کہ ہمارے لئے عفو اور خاموشی نا جائز ہو جائے اور ہم کو بھی اُن کے مقابلہ میں ان کی باتوں کی تشہیر کرنی پڑے اور اگر ایسا موقع پیش آیا تو یقیناً اس کی ذمہ داری پیغامیوں کی جماعت پر ہی ہوگی اور پھر کوئی پیغامی ہم پر ناراض نہ ہو بلکہ تج اپنے امیر پر ناراض ہو کیونکہ وہ متواتر اس طریق کو اختیار کرتے چلے جا رہے ہیں جو شرافت اور تہذیب کے بالکل خلاف ہے۔لاہور کے ایک ہندو جو ہندوؤں کے مشہور لیڈر ہیں ان کی لڑکی کے متعلق کئی سال ہوئے