خطبات محمود (جلد 19) — Page 860
خطبات محمود ۸۶۰ سال ۱۹۳۸ء تو خود بخو دلوگوں کی رغبت ان کی طرف ہو جائے گی اور اگر میری تفسیر اعلیٰ ہوئی تو لوگوں کی رغبت میری طرف بڑھ جائے گی۔اس کام کے لئے صرف اس قدر کافی ہے کہ دونوں تفسیر میں ایک کی جلد میں چھپ جائیں۔اس کے لئے ہمارے اکٹھا بیٹھنے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ دونوں طرف کے نمائندے اکٹھے ہو کر قرعہ ڈال لیں اور ایک وقت مقرر ہو جائے کہ فلاں ٹکڑہ کی اتنے دنوں کے اندر تفسیر لکھی جائے پھر وقت مقررہ پر دونوں طرف کے نمائندے تفاسیر پیش کر دیں اور ہر فریق دوسرے کو کاپی دے دے جو بعد ازاں اکٹھی چھپ جائیں اور دونوں فریق اس کا خرچ برداشت کریں اور چھپنے پر برا بر برابر کا پہیاں لے لیں۔66 ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اعجاز مسیح کے وقت اسی رنگ میں تفسیر لکھی ہے۔اس مقابلہ میں یہ تو سوال ہی نہیں کہ الگ تفسیر لکھی گئی تو دوسرے لوگ مدد دے دیں گے کیونکہ اول تو یہ سہولت مولوی صاحب کو بھی حاصل ہوگی۔دوسرے اس قسم کی تفسیر کی خوبی تو نئے معارف سے ظاہر ہوگی اور یہ معارف تو بہر حال عارف ہی بیان کر سکتا ہے۔ورنہ ظاہری علم تو کی یقیناً مولوی صاحب کا مجھ سے زیادہ ہے اس کا تو انکار میں نے کبھی کیا ہی نہیں وہ ایم۔اے ہیں اور میں پرائمری پاس بھی نہیں ہوں۔میں ان کی اس فوقیت کا مقر ہوں مجھے تو جس امر میں اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ میں کہتا ہوں خدا تعالیٰ میری مدد کرتا ہے اور وہ کہتے ہیں خدا تعالیٰ میری مدد کرتا ہے گویا الہی مدد اور نصرت کا سوال ہے کسی ذاتی علم کا سوال نہیں۔پس وہ اس طریق کو اختیار کر کے دیکھ لیں جو میں نے تجویز کیا ہے۔پھر خود بخودان پر واضح ہو جائے گا کہ اس میں مجھے ان پر فوقیت حاصل ہے لیکن اگر باوجود میرے اس طریق کو پیش کر دینے کے مولوی صاحب نے اپنے طریق کو نہ بدلا تو میں انہیں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر ناراض کرنے کے سامان پیدا کر رہے ہیں۔لوگ خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کی تدابیر اختیار کرتے ہیں اور وہ اس کو ناراض کرنے کے حیلے ڈھونڈ رہے ہیں اگر وہ اس کی طریق سے باز نہیں آئیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی ذلت کے سامان کرے گا۔وہ ہمارے متعلق بے شک جو چاہیں کہیں ہم جانتے ہیں کہ وہ گو اقلیت میں ہیں مگر انہوں نے ایک بڑی اکثریت سے جو ہماری مخالف ہے صلح کی ہوئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک