خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 856 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 856

خطبات محمود ۸۵۶ سال ۱۹۳۸ء پڑھ کر کانپ اُٹھتا ہے۔اب یہ باتیں ہائیکورٹ کے فیصلہ میں آگئی ہیں اور ساری دنیا میں پھیل جائیں گی۔۔۔۔وہ قادیان جو کبھی نیکی ، اعلیٰ اخلاق اور راستبازی کی وجہ سے دنیا میں مشہور تھا آج بُری باتوں کے لئے دنیا میں مشہور ہو رہا ہے۔پھر لکھتے ہیں: وو دوسری چیز علم ہے حضرت مسیح موعود نے تمام مذاہب پر اتمام حجت کیا، ایک نیا علم الکلام کی پیدا کیا ، اسلام کی حقانیت پر کتابوں اور مضامین کے انبار لگا دیئے، قرآن کو ساری دنیا میں پھیلانے کی بنیاد رکھی ، آج ذرا دیکھو کہ قادیان میں کس قدر علم رہ گیا ہے۔کل ہی کی بات ہے دورانِ سفر میں ایک قادیانی بزرگ سے ملاقات ہوئی۔میں نے اُن سے کہا کہ آخر یہ کیا ہو گیا ہے آپ کا انگریزی ترجمہ قرآن چھپنے ہی میں نہیں آتا۔آج چھپیں سال ہو گئے۔انہوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور بات ٹال گئے۔تیری بات ہے کام۔سواب قادیانی جماعت کی تمام طاقت سیاست پر صرف ہو رہی ہے اسلام کی حفاظت اور تبلیغ کا خیال انہیں بھولتا جا رہا ہے۔یہ تقریر اُنہوں نے بھی کی۔گویا ان کے نزدیک جب کوئی دشمن اعتراض کر دے خصوصاً جو اس کی جماعت میں شامل ہو تو ضرور تہہ میں کوئی نہ کوئی بات ہوتی ہے اور وہ دوسرے کو تقوی وطہارت سے کوسوں دور ثابت کرنے والی ہوتی ہے اور اگر ہائیکورٹ کے فیصلہ میں کوئی گالی نقل ہو جائے تو پھر تو اس کے سچا ہونے میں کوئی شبہ ہی نہیں رہتا۔چاہے صرف حوالہ کے طور پر ہی ان گالیوں کو نقل کیا گیا ہے۔اگر یہی بات ہے تو کیا کہیں گے مولوی محمد علی صاحب ان کیسز کے متعلق جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دشمنانِ اسلام کی گالیاں نقل کی گئی ہیں اور ہائیکورٹ کے فیصلوں میں نقل کی گئی ہیں۔کیا وہ اسی اصل کے مطابق جو انہوں نے یہاں اختیار کی کیا ہے ان گالیوں کو بھی سچا سمجھنے کے لئے تیار ہیں۔معلوم ہوتا ہے وہیں سے مولوی صاحب کے دل میں مرض پیدا ہونا شروع ہوا ہے اور جب کسی کو آقا کے متعلق شبہات پیدا ہو جا ئیں تو اس کا کی غلاموں کے متعلق شک کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہو سکتا۔مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ اس بات کو کسی قسم کی اہمیت دینا نادانی ہے جب بھی کوئی حج کسی پر الزام قائم کرے گا اس کے لئے کی