خطبات محمود (جلد 19) — Page 822
خطبات محمود ۸۲۲ سال ۱۹۳۸ء بعض وقف بھی ہزار سال سے چلے آتے ہیں۔پس اگر عیسائیوں کے بعض وقف ہزار ہزار سال تک قائم رہ سکتے ہیں تو کیا تعجب ہے کہ تمہارا وقف ڈیڑھ ہزار یا دو ہزار سال تک قائم رہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے پہلے مسیح پر فضیلت دی ہے۔اب خود ہی غور کرو کہ یہ کتنا عظیم الشان ثواب کا موقع ہے جو تمہارے سامنے ہے۔تم تحریک جدید کے دور ثانی میں غالباً چھ سال تک اور مالی قربانی کرو گے مگر سینکڑوں ہزاروں سال تک انشاء اللہ تمہارے روپیہ سے تبلیغ اسلام ہوتی رہے گی اور تمہارے مرنے کے بعد بھی کی تمہیں تو اب پہنچتارہے گا۔میں کہتا ہوں کہ ہزاروں سال کو جانے دوا گرسو، دوسوسال تک بھی تمہیں مستقل ثواب پہنچتا چلا جائے تو یہ کتنی عظیم الشان کامیابی ہے اور اس کامیابی کے مقابلہ میں دس سال کی قربانی کی حقیقت ہی کیا ہے۔میں نے گزشتہ سال کہا تھا کہ تحریک جدید کے دور اول کے پہلے سال میں جس نے جس قدر چندہ دیا ہو وہ اگر چاہے تو اسی قدر چندہ دور ثانی کے پہلے سال دے سکتا ہے اور پھر ہر سال اسے اپنے چندہ میں دس فیصدی کمی کرنے کی اجازت ہے۔میں آج دور ثانی کے سال دوم کے چندہ کی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے پھر اس بات کو دُہرا دیتا ہوں کہ عام قانون یہی ہے کہ دوستوں کو اس بات کی اجازت ہے کہ پچھلے سال انہوں نے تحریک جدید میں جس قدر چندہ دیا کی تھا اس سال اگر چاہیں تو اس سے دس فیصدی کم چندہ دے دیں، یعنی اگر کسی نے سو روپے دیئے تھے تو وہ نوے روپے دے سکتا ہے، ہزار روپے دیئے تھے تو نو سو روپے دے سکتا ہے، پچاس روپے دیئے تھے تو ۲۵ روپے دے سکتا ہے ،۲۰ روپے دیئے تھے تو ۱۸ روپے دے سکتا ہے اور دس روپے دیئے تھے تو نو روپے دے سکتا ہے لیکن میں اس کے ساتھ یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ جو شخص توفیق کے ہوتے ہوئے اپنے چندہ میں کمی کرتا ہے وہ اپنے ایمان کو اپنے ہاتھوں نقصان پہنچاتا ہے۔یہ اجازت جو میں نے دی ہے یہ صرف اس لئے ہے کہ میں جانتا ہوں کہ کی ابتداء میں بعض لوگوں نے جوش میں آکر اپنی طاقت سے بہت زیادہ چندہ دے دیا تھا۔پس ان کے لئے بغیر اس کمی کے چارہ نہیں اور انکے لئے بھی یہ کی اس لئے ہے تا پہلے سالوں سے کم چندہ دینے کی وجہ سے ان کا دل میلا نہ ہو اور وہ کہہ سکیں کہ گو ہمیں مالی مشکلات درپیش ہیں مگر پھر بھی