خطبات محمود (جلد 19) — Page 797
خطبات محمود ۷۹۷ سال ۱۹۳۸ء یہ ایک اصولی سوال ہے اور ہم اس ذریعہ سے احرار کے جھوٹے پروپیگنڈا کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں اس لئے باوجود آپ لوگوں کے اصرار کے ہم اپنے آدمی کو نہیں بٹھا سکتے۔جب الیکشن کا نتیجہ نکلا تو بیشک اہل سنت و الجماعت کا ایک نمائندہ کامیاب ہو گیا مگر دوسرے نمبر پر احمدی نمائندہ تھا۔تیسرے نمبر پر احراری اور چوتھے نمبر پر دوسراستی اب اس نتیجہ کو احرار کہاں چھپا سکتے تھے۔یہ پلک کی آواز تھی جو ووٹوں کے ذریعہ ظاہر ہوئی اور اس نے دنیا پر ثا بت کر دیا کہ یہ کہنا کہ احمدیوں کو قادیان کے علاقہ میں کچل دیا گیا ہے بالکل بے معنی دعوی ہے۔حقیقت اس میں کچھ نہیں۔پس اس نتیجہ نے احرار کی آواز کو بالکل مدھم کر دیا اور اس کے بعد قادیان کی فتح کا نقارہ بجتے کم از کم میں نے نہیں سنا اس لئے کہ یہ نتیجہ سرکاری افسروں کے سامنے نکلا اور انہوں نے بھی دیکھ لیا کہ احرار کی نسبت جماعت احمدیہ کے نمائندہ کو ووٹ زیادہ ملے ہیں۔ایسے تین اور کھلے نتیجہ کو کوئی کہاں چھپا سکتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہلے کی دور میں زمین صاف کرنے کا موقع دیا اور ادھر تو حکام پر حقیقت کھل گئی اور ادھر پبلک پر حقیقت کھل گئی ہمیں جو خدشہ تھا کہ جماعت کی سبکی اور بدنامی نہ ہو وہ جاتا رہا۔دوسری طرف ہمیں حکومت کے بعض افسروں سے اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔ہمیں ان پر بھی غصہ تھا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ تم باغی ہو اور حکومت کا تختہ الٹنے والے ہو حالانکہ ہم ایسے نہیں۔ہم نے اس الزام کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے رنگ میں غلط ثابت کیا کہ گورنمنٹ کو تقریراً اور تحریراً تسلیم کرنا پڑا کہ ہم جماعت پر ایسا کوئی الزام نہیں لگاتے اور یہ کہ اس نوٹس سے جو اس نے دیا یہ مراد ہر گز نہیں تھی کہ حکومت کے نزدیک جماعت احمدیہ نے سول نافرمانی یا کسی خلاف امن فعل کے ارتکاب کا ارادہ کیا ہے۔چنانچہ حکومت پنجاب کی چٹھیوں کے علاوہ جب نائب وزیر ہند کے پاس شکایت کرتے ہوئے انہیں اس معاملہ کی طرف توجہ دلائی گئی تو انہوں نے ایک خط کے ذریعہ اطلاع دی کہ حکومت ہند کی طرف سے انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ حکومت پنجاب اور اس کی کے افسروں نے اس معاملہ میں جو کچھ بھی کیا ہے اس کے کرتے وقت ان کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ خیال نہ تھا کہ وہ کوئی ایسا کام کریں جس سے جماعت احمدیہ کے جذبات کو جس کی وفاداری پورے طور پر مسلم ہے کسی طرح ٹھیس لگے۔حالانکہ ہر شخص جانتا ہے کہ پہلے