خطبات محمود (جلد 19) — Page 779
خطبات محمود 229 سال ۱۹۳۸ء بھی احمدیت سے باہر نظر نہیں آتی۔منہ سے کہنا کہ ہم آپ کے عاشق ہیں اور بات ہے لیکن ان کی لوگوں کی تقریروں کو اگر سنو تو اگر وہ ہمارے دلائل کی خوشہ چینی نہیں کرتے اور حضرت مسیح موعود کی علیہ الصلوۃ والسلام کی نقل نہیں کرتے تو ان میں سوائے اس کے کچھ نہیں ہو گا کہ آپ کملی والے ہیں آپ کی زلفیں ایسی تھیں۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی یہی خوبیاں تھیں جن کیلئے اللہ تعالیٰ تیرہ سو سال سے دنیا میں لڑائیاں ، جھگڑے اور خونریزیاں کراتا رہا ، ان کے ذہن اس سے آگے نہیں جاتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا خلق ، انسانی روح کی ترقی کے مدارج کا بیان اور اس کی ترقی کیلئے روحانی نور کا مہیا کرنا یہ ساری خوبیاں ان کی نظر سے پوشیدہ ہیں۔اگر یہ خوبیاں کسی کے سامنے آئیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اور اگر آج یہ خزانہ کہیں موجود ہے تو جماعت احمدیہ میں۔پھر خدا تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ سے روحانی ترقیات کا جو دروازہ کھول دیا ہے امید کے دودھ سے لبریز پیالہ جو دیا ہے وہ بھی ہمارے سوا کسی کے پاس نہیں۔تمام مسلمان آپ کی ذات کو مایوس اور افسردگی کا پیغام قرار دیتے ہیں اور ایک ایسی دیوار ظاہر کرتے ہیں جو افضال الہی کے دروازہ کے آگے کھڑی ہے۔صرف ایک ہی شخص ہے جس نے بتایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دروازہ کو بند کرنے والی دیوار نہیں ہیں بلکہ ایک بند دیوار کا دروازہ ہیں جو خدا تعالیٰ اور بندے کے درمیان حائل تھی۔ختم نبوت بند کرنے والی دیوار نہیں بلکہ ایک وسیع دروازہ ہے جس سے ہو کر بندہ خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ خدا تعالیٰ اور بندے کے تعلقات منقطع ہو گئے ہیں بلکہ یہ ہیں کہ زیادہ کثرت اور وسعت کے ساتھ خدا تعالیٰ آپ کے وجود میں سے ہو کر بندے تک پہنچے گا۔یہ وہ عظیم الشان امید کا دروازہ ہے اور امنگیں پیدا کرنے والی تعلیم ہے جو احمدیت سے باہر نظر نہیں آسکتی۔اگر احمدیت نہ ہو تو یہ خزانہ پھر مٹ جاتا ہے۔یہ امور دنیا سے مخفی تھے اور صرف احمدیت کے ذریعہ ہی ظاہر ہوئے۔بے شک ظاہری علماء کی دنیا میں کمی نہ تھی اور نہ ہے، عربی کے ایسے بڑے بڑے عالم دنیا میں موجود ہیں جو ہمارے بڑے بڑے علماء کو برسوں پڑھا سکتے ہیں، روایات حدیث کی چھان بین کے ایسے ایسے ماہر دنیا میں موجود ہیں ، صرف و نحو