خطبات محمود (جلد 19) — Page 738
خطبات محمود ۷۳۸ سال ۱۹۳۸ء انسان کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ وہ اپنی جدو جہد کے ساتھ میرا مظہر کامل بنے نہ یہ کہ میں اسے بنا دوں۔گویا اس آیت میں ایک طرف انسان کو اپنا مظہر بتایا ہے اور دوسری طرف فرمایا ہے کہ یہ مظہر بیت قبول کرنا تمہارے اپنے اختیار میں ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اس امر کو انسان کی اپنی مرضی پر چھوڑا ہے کہ وہ طوعی طور پر نہ کہ جبری طور پر اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کرے۔یہی انسانی جد و جہد کا وقت ہوتا ہے جس میں اسے اپنے علم اور تجربہ سے فائدہ اٹھا کر کام کرنا پڑتا ہے۔وہ شاگرد جو استاد کے پاس بیٹھا ہو اور وہ جو اپنے طور پر مطالعہ کرے دونوں میں بڑا فرق ہوتا ہے۔پہلا اپنی ہر مشکل استاد کے سامنے پیش کر کے اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے لیکن دوسرے کی کو اس غرض کے لئے کتابوں اور لغات کی ورق گردانی کرنی پڑتی ہے۔پس تغیرات ضروری ہیں اور انہی تغیرات کا نام تحریک جدید ہے۔اس تحریک کے تین بڑے حصے ہیں۔اول مردوں کی کی اصلاح، دوسرے عورتوں کی اصلاح اور تیسرے بچوں کی اصلاح۔دنیا میں کوئی قوم کامیابی کی حاصل نہیں کر سکتی جب تک کوئی مقصد اس کے سامنے نہ ہو اور اس کے لئے مرد عورت اور بچے سب مل کر کام نہ کریں۔پس ہر جماعت کا فرض ہے کہ اپنے ہاں کے مردوں، عورتوں اور بچوں کی اصلاح کرے۔عورتوں کی اصلاح کے لئے لجنہ کا قیام نہایت ضروری ہے لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسے فرض کفا یہ سمجھ لیا گیا ہے۔چند عورتیں لجنہ میں شامل ہو جاتی ہیں اور باقی اپنے لئے اس میں شامل ہونا ضروری نہیں سمجھتیں۔پس ضرورت ہے کہ ہر جگہ لجنہ اماء اللہ کا قیام ہو اور سب بالغ عورتیں اس میں شامل ہوں اور کوئی ایک عورت بھی ایسی نہ رہے جو اس سے باہر ہو۔یہی ایک ذریعہ ہے جس سے عورتوں کی اصلاح ہو سکتی ہے۔دہلی کے متعلق مجھے رپورٹوں سے معلوم ہوتا رہتا ہے کہ یہاں صرف دس بارہ عورتیں جمع ہوتی ہیں اور وہی لیکچر دے لیتی ہیں حالانکہ جب تک ایک عورت بھی باہر رہے اس وقت تک ہماری تنظیم مکمل نہیں ہوسکتی۔لجنہ میں داخلہ کو اگر ہم نے ضروری قرار نہیں دیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورتیں اس میں شمولیت کی کو غیر ضروری سمجھ لیں بلکہ ہمارا مقصد ہے کہ وہ اپنی مرضی اور خوشی سے اس میں شامل ہوں اور اس طرح انہیں ثواب اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوافل کو قرب الہی کا ذریعہ بتایا ہے لیکن آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہم نوافل