خطبات محمود (جلد 19) — Page 725
خطبات محمود ۷۲۵ سال ۱۹۳۸ء کی وجہ سے ان میں بیداری پیدا ہونے لگی اور اس وجہ سے انہوں نے حقوق مانگنے شروع کئے کی اور اس کے لئے جد و جہد کرنے لگے اور اس طرح سو سال تک لڑتے جھگڑتے رہے۔اتنے میں ان کی خوش قسمتی سے جنگ عظیم شروع ہوئی تو ڈاکٹر بینر اور بعض دوسرے لیڈروں نے اپنے اہلِ ملک کو اُکسایا اور انہوں نے مزید جوش کے ساتھ جد و جہد جاری کی نتیجہ یہ ہوا کہ صلح کے معاہدہ کے وقت فرانس وغیرہ کی مدد سے وہ ایک علیحدہ حکومت قرار دے دی گئی۔امریکہ کے پریذیڈنٹ ولسن نے جنگ کو ختم کرنے کے لئے یہ اصول قائم کیا تھا کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ کسی دوسری قوم پر حکومت کرے ہر قوم کو اس کا علاقہ دے دیا جائے لیکن صلح کے وقت اس اصول پر عمل نہیں ہوا۔فرانس اور برطانیہ نے افریقہ کے سارے علاقے آپس میں بانٹ لئے جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے نزدیک ایشیائی انسان ہی نہیں ہیں۔پھر بعض ملکوں میں وہ مربی بن گئے ،عراق کے مربی انگریز اور شام کے فرانسیسی ہو گئے گویا یہ ممالک یتیم تھے جن کے لئے کسی نہ کج کسی مربی کی ضرورت تھی۔جو ان کی نگہداشت کرے۔فلسطین والے یتیم رہ گئے تھے ان کے مربی بھی انگریز بن گئے تو گویا کچھ ممالک کو تو یتیم قرار دے کر ان کے لئے مربی مقرر ہو گئے اور کچھ ایسے تھے جن میں رہنے والوں کو آدمی نہیں بلکہ جانور سمجھا گیا اور ان کے متعلق یہی فیصلہ ہوا کہ ان کو با ہم بانٹ لیا جائے۔چنانچہ افریقہ کے کچھ علاقے برطانیہ نے اور کچھ فرانس نے لے لئے اور یہ ایک نہایت ظالمانہ فعل تھا جو ان حکومتوں سے سرزد ہوا۔دیانت داری کو اگر ملحوظ رکھا جائے تو یہی فیصلہ کرنا پڑے گا کہ لڑے بھڑے بغیر کوئی کسی کو اپنے ماتحت نہیں کر سکتا۔افریقہ کے حبشی تو کسی سے لڑے نہیں تھے وہاں سے اگر جرمنوں کو نکالنا تھا تو چاہئے تھا کہ ان کو آزاد کر دیا جاتا۔یہ عذر کہ وہ حکومت کے قابل نہ تھے بالکل غلط ہے۔جرمن ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ انگریزی حکومت کے نا اہل ہیں اور اس طرح ہر قوم اپنے آپ کو ہی سلطنت کا اہل سمجھتی ہے۔اگر اس بناء پر کہ دوسرے کے نزدیک وہ حکومت کے اہل نہیں کسی قوم کو حکومت سے محروم کر دینے کا اصول مان لیا جائے تو چاہئے کہ انگریز بھی حکومت سے دست بردار ہو جائیں کیونکہ جرمنوں کی رائے میں وہ اس کے قابل نہیں۔کیا انگریز اس کے لئے تیار ہیں کہ اہلِ جرمنی ان پر حکومت کریں۔یا جرمن اس کے لئے تیار ہے کہ انگریز ان پر حکومت کریں، کیا فرانسیسی اسے پسند کریں گے کہ