خطبات محمود (جلد 19) — Page 724
خطبات محمود ۷۲۴ سال ۱۹۳۸ء خدا تعالیٰ نے بھی اسے بھلا دیا۔بہر حال ایشیا اس وقت سیاسی لحاظ سے خدائی قانون کو توڑ کر اس کی نظروں سے گرا ہوا ہے اور یورپ خدا تعالیٰ کے دنیوی قانون کو پورا کرتے ہوئے دنیوی لحاظ سے اس کی نظروں میں پسندیدہ ہے اس لئے اس کی شان وشوکت کے مقابلہ میں ایشیا کی حیثیت کچھ نہیں۔زیکوسلواکیہ ایک چھوٹا سا ملک ہے جو چین کے ایک صوبہ کے برابر بھی نہیں مگر چونکہ یورپ میں ہے اس لئے یورپین حکومتوں کے خون میں فوراً جوش پیدا ہوا اور انہوں نے کہہ دیا کہ اگر اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو ہم جنگ کریں گے لیکن چین ایشیا میں ہے۔وہاں عرصہ سے جنگ جاری ہے۔اگر اس میں زیکو سلواکیہ کی ساری آبادی کے برابر لوگ ایک دن میں بھی قتل ہو جائیں تو کسی کو فکر نہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے۔کیا یورپ والوں نے ایشیائیوں سے کہا تھا کہ تم اپنی ہمتوں کو پست اور ارادوں کو کمزور کرلو۔بہر حال زیکوسلواکیہ چونکہ یورپ میں تھا اس لئے یورپین حکومتوں میں جوش پیدا ہوا اور انہوں نے کہہ دیا کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو لڑائی ہوگی۔ایک طرف زیکوسلواکیہ کی امداد کے لئے روس اور فرانس نے اعلان کیا تو دوسری طرف اٹلی جرمنی کی امداد کے لئے تیار ہو گیا۔انگلینڈ نے صلح کرانے کی کوشش کی مگر یہ بھی کہہ دیا کہ اگر فرانس کو جنگ میں شامل ہونا پڑا تو ہم لازماً اپنے کی دوست کی امداد کریں گے ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے۔اس معاملہ میں انگریزی حکومت بالخصوص وزیر اعظم نے جو کوشش کی ہے اس کے متعلق عام طور پر یہی احساس ہے کہ اس نے کمزوری اور بز دلی دکھائی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب اس جھگڑے کی ساری تاریخ پڑھی جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ انہوں نے کوئی کمزوری یا بز دلی نہیں دکھائی۔اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ زیکو سلواکیہ کی حکومت بنانے میں انگریزی قوم کا کوئی دخل نہ تھا زیک بڑی جنگجو قوم ہے کسی زمانہ میں اس نے وسطی یورپ میں زبر دست حکومت قائم کی تھی اور کئی سو سال تک ان کی بادشاہت رہی لیکن بعد میں آسٹرین حکومت نے اسے فتح کر لیا اور آہستہ آہستہ اس کا کچھ حصہ آسٹریا کچھ جرمنی اور کچھ ہنگری نے ملا لیا اور اس طرح یہ لوگ قریباً ایک ہزار سال تک غلام رہے۔اٹھارویں صدی میں انہوں نے تعلیم کی طرف توجہ کی اور علم