خطبات محمود (جلد 19) — Page 723
خطبات محمود ۷۲۳ سال ۱۹۳۸ء اور پھر چھوڑ دیتی ہے مگر جب وہ بھاگنے لگتا ہے تو پھر پکڑ کر ایک چپت رسید کر دیتی ہے۔تو چین بظاہر تو آزاد ہے مگر مختلف اقوام کے معاہدات کے رو سے وہ کئی ممالک کا غلام ہے اور اس لحاظ سے اس کی حالت ہندوستان سے بھی بدتر ہے۔ہندوستان میں تو پھر بھی ایک منظم حکومت ہے مگر وہاں اس سے بدتر حالت ہے۔اب تو خیر اس پر جاپان نے حملہ کر رکھا ہے مگر اس سے پہلے بھی وہ آزاد طاقت نہ تھی۔ایشیا والے ان چیزوں سے فارغ ہیں اور ایسی ہی حالت کو دیکھتے ہوئے کسی دہریہ مزاج دل جلے نے کسی مجلس میں جہاں یہ بات ہو رہی تھی کہ یورپ بہت ترقی کر رہا ہے مگر ایشیا کو ترقی کا کوئی موقع نہیں ملتا یہ کہہ دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو یورپ ہی سے فرصت نہیں ملتی ایشیا کی طرف کیسے دھیان دے سکتا ہے۔اسے یہ خیال نہ آیا کہ بے شک اللہ تعالیٰ کو یورپ سے فرصت نہیں مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپ دنیوی طور پر اس کے قانون کی پابندی کرتا ہے اور ایشیا نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ جو ہمارے قانون کی پابندی نہیں کرتے انہوں نے ہم کو بھلا دیا اس لئے ہم نے ان کو بھلا دیا۔اللہ تعالیٰ کو بھلانا صرف دینی لحاظ سے ہی نہیں کی ہوتا بلکہ دنیوی لحاظ سے بھی ہوتا ہے اور دنیوی لحاظ سے خدا تعالیٰ کو نہ بھلانے والا ہی دنیوی رنگ میں کامیاب ہو سکتا ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ جو روٹی کھاتا ہے اسی کا پیٹ بھرے گا اور جو نہیں کھاتا اس کا پیٹ نہیں بھرتا ، اس لئے کہ خدا تعالیٰ کا یہی قانون ہے۔اب ایک شخص بہت نمازیں پڑھے، روزے رکھے زکوۃ دے، حج کرے لیکن روٹی نہ کھائے اور کہے کہ خدا تعالیٰ میری طرف توجہ نہیں کرتا اور میرا پیٹ نہیں بھرتا یا پڑھائی تو نہ کرے لیکن شکوہ یہ کرے کہ دیکھو فلاں شخص نے میٹرک یا بی۔اے یا ایم۔اے پاس کر لیا ہے اور میں کو دن ہی ہوں۔تو ہم اسے کہیں گے کہ تم احمق نمازی ہو، احمق روزہ دار ہو، احمق حاجی اور احمق خیرات دینے والے ہو کیا تم کبھی مدر سے گئے یا تعلیم پر کوئی وقت صرف کیا کہ میٹرک یا بی۔اے یا ایم۔اے پاس کر سکتے۔اگر تم نے اس طرف توجہ ہی نہیں کی تو علم حاصل کیسے کر سکتے تھے۔تو اللہ تعالیٰ نے دنیوی ترقی کے جو ذرائع مقرر کئے ہیں ایشیا ان کو بھول چکا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے بھی اس کو بھلا دیا۔اس کے برعکس یورپ نے جب خدا تعالیٰ کے قانون کی طرف توجہ کی تو خدا تعالیٰ نے بھی اس کو یاد کیا لیکن اس نے دین کے معاملہ میں خدا تعالیٰ کو بھلا دیا پس اس بارہ میں