خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 687 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 687

خطبات محمود ۶۸۷ سال ۱۹۳۸ء مولوی صاحب کی وجہ سے ہے۔سلسلہ کی غرض اور میری بعثت کی حکمت اور غایت کو انہوں کی نے نہیں سمجھا۔اس کے علاوہ ایک تیسری جماعت بعض نو جوانوں کی ہے جن کے دل میں گوئی مسلمانوں کا درد تھا مگر قومی طور پر نہ کہ مذہبی طور پر۔وہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا کوئی جتھا ہوان میں کچھ تنظیم ہو ، ان میں انجمنیں قائم ہوں اور مدر سے جاری ہوں مگر چونکہ عام مسلمانوں کا کوئی جتھا بنانا ان کے لئے ناممکن تھا اس لئے جب انہوں نے ہماری طرف ایک جتھا دیکھا تو وہ ہم میں آگئے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ مدر سے قائم کریں اور لوگ ڈگریاں حاصل کریں۔اسی وجہ سے وہ ہمارے سلسلہ کو ایک انجمن سمجھتے ہیں ، مذہب نہیں سمجھتے۔تو دُنیا میں ترقیات کے جو ذرائع سمجھے جاتے ہیں وہ بالکل اور ہیں اور دین میں جو ترقی کے ذرائع سمجھے جاتے ہیں وہ بالکل اور ہیں۔انجمنیں اور طرح ترقی کرتی ہیں اور دین اور طرح۔دین کی ترقی کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اخلاق کی درستگی کی جائے ، قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کیا جائے ، نمازیں پڑھی جائیں روزے رکھے جائیں ، اللہ تعالیٰ پر توکل پیدا کیا جائے اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کیا ج جائے۔اگر ہم یہ تمام باتیں کریں تو گو دُنیا کی نگاہوں میں ہم پاگل قرار پائیں گے مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہم سے زیادہ عقلمند اور کوئی نہیں ہوگا۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ مسلمان جب مالی قربانیاں کرتے تو منافق کہا کرتے کہ یہ مسلمان تو احمق ہیں بس روپیہ برباد کئے چلے جا رہے ہیں۔انہیں کوئی ہوش نہیں کہ اپنے روپیہ کو کسی اچھے کام پر لگائیں۔اسی طرح جب وہ اوقات کی قربانی کرتے تو پھر وہ کہتے یہ تو پاگل ہیں، اپنا وقت برباد کر رہے ہیں۔انہوں نے ترقی خاک کرنی ہے۔گویا مسلمانوں کو یا وہ احمق قرار دیتے یا ان کا نام مجنوں رکھتے۔یہی دو نام اُنہوں نے مسلمانوں کے رکھے ہوئے تھے مگر دیکھو پھر وہی احمق اور مجنوں دُنیا کے عقلمندوں کے استاد قرار پائے۔پس ہماری جماعت جب تک وہی احمقانہ رویہ اختیار نہیں کرے گی جس کو کافر اور منافق کی احمقانہ قرار دیتے تھے اور ہماری جماعت جب تک وہی مجنونانہ رویہ اختیار نہیں کرے گی جس کو کا فر اور منافق مجنونانہ رویہ قرار دیتے تھے اس وقت تک اسے کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے موقع پر جھوٹ بھی بول لیا کرو، اگر تم چاہو کہ تم ضرورت کے