خطبات محمود (جلد 19) — Page 68
خطبات محمود ۶۸ سال ۱۹۳۸ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گوز یور کیلئے سونا بھی کم ہوتا تھا مگر اس فرق کو کی مد نظر رکھتے ہوئے بھی زیور کا جس قدر رواج تھا کہا جا سکتا تھا کہ سونے کی نسبت سے بھی کم تھا۔اُس وقت زیورات کی اتنی کمی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی کے متعلق آتا ہے کہ ان کا زیور محض یہ تھا کہ ان کے پاس ایک ہار تھا جو لونگوں اور بعض دوسرے خوشبو دار بیجوں سے بنا ہوا تھا اور وہ بھی کسی سے عاریتاً لیا ہو ا تھا۔ہمارے ملک میں بھی زمیندار عورتیں کھوپرے کے ٹکڑوں اور خربوزوں کے بیجوں کے ہار بنالیتی ہیں۔اسی طرح انہوں نے بھی خوشبو کے لئے مختلف قسم کے بیجوں اور رنگوں کو اکٹھا کر کے ایک ہار بنایا ہو اتھا۔در حقیقت زیور اقتصادی لحاظ سے ایک نہایت ہی مضر چیز ہے کیونکہ اس میں قوم کا روپیہ بغیر کسی فائدہ کے پھنس جاتا ہے اور دراصل یہی وہ سونا چاندی اکٹھا کرنا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جو لوگ سونا چاندی اکٹھا کرتے ہیں قیامت کے دن اس سونا چاندی کو گرم کر کے ان کے جسم پر داغ لگایا جائے گا۔یوں قرآن مجید رو پی رکھنے کی ممانعت نہیں کرتا۔اگر روپیہ جمع کرنا منع ہوتا تو اسلام میں زکوۃ کا مسئلہ بھی نہ ہوتا۔پس روپیہ جمع کرنا کی منع نہیں بلکہ ایسا روپیہ جمع کرنا منع ہے جو دنیا کو کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے۔ایک شخص کے پاس اگر دس لاکھ روپیہ ہو اور وہ تجارت پر لگا ہوا ہو تو پانچ دس سو لوگ ایسے ہوں گے جو اس کے روپیہ کی سے فائدہ اُٹھا رہے ہوں گے۔پس بڑے تاجر کا روپیہ یا بڑے زمیندار کا روپیہ بند نہیں کہلا سکتا۔مثلاً ایک زمیندار کے پاس اگر دو چار سو ایکڑ زمین ہے تو چونکہ وہ اکیلا اس زمین میں ہل نہیں چلا سکے گا اس لئے لازماً وہ اور لوگوں کو نوکر رکھے گا اور اس طرح بارہ تیرہ آدمی بلکہ بہ شمولیت بیوی بچوں کے ساٹھ ستر آدمی کا اس کی زمین سے گزارہ چلے گا اور تمام قوم کو فائدہ پہنچے گا۔لیکن اگر وہ سو دو سو ایکٹر زمین کی بجائے اتنے روپیہ کا سونا خرید کر گھر میں رکھ لیتا ہے تو کسی ایک شخص کو بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔تو اپنے روپیہ کو ایسے استعمال میں نہ لانا جس کا دنیا کو فائدہ کی پہنچے، اسلام سخت نا پسند کرتا ہے اور ایسے لوگوں کو ہی قیامت کے دن سزا دینے کا خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر کیا ہے۔چونکہ زیورات کے ذریعہ بھی روپیہ بند ہو جاتا ہے اور قوم کے کام نہیں آتا اس لئے زیورات کی کثرت بھی ناپسندیدہ امر ہے۔ہاں عورت کی اس کمزوری کو مد نظر