خطبات محمود (جلد 19) — Page 655
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء تو بہر حال صریح حوالجات کی موجودگی میں اور حدیث اور تاریخ اور اقوام عالم کی گواہی کی موجودگی میں ہمیں اس کی کوئی تاویل کرنی پڑے گی۔اور اس حوالہ کے کوئی ایسے معنے کرنے پڑیں گے جو خلاف عقل نہ ہوں اور وہ معنے یہی ہیں کہ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام انہی نبیوں کا ذکر کر رہے ہیں جن کے متعلق یہ الہی فیصلہ ہو کہ وہ قتل نہیں ہو سکتے۔سلسلہ کا پہلا اور پچھلا نبی تو بہر حال قتل نہیں ہو سکتا۔درمیانی انبیاء میں سے بھی ضروری نہیں کہ سب قتل ہوں۔بلکہ یہ ممکن ہے کہ درمیانی انبیاء میں سے بھی کوئی ایسا نبی ہو جسے اللہ تعالیٰ یہ الہام کر دے کہ تجھے دشمن قتل نہیں کرسکتا۔پس اگر درمیانی انبیاء میں سے بھی کوئی ایسا نبی ہو۔جسے الہاماً اللہ تعالیٰ عصمت کا وعدہ دیدے اور کہہ دے۔کہ دشمن تجھے قتل کرنے پر قادر نہیں ہو سکتے۔تو پھر وہ بھی ان انبیاء میں شامل ہو جائے گا۔اس کے علاوہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام صرف اپنا ذ کر کر رہے ہیں۔عام قاعدہ بیان نہیں فرما ر ہے۔اور اپنے متعلق یہ فرما رہے ہیں کہ مجھے دشمن کبھی قتل نہیں کر سکتا۔خواہ کس قد ر کوشش کرے اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے فارسی قصیدہ میں جو علامات مقربین کے بارہ میں ہیں۔اور جس کا ایک مصرعہ علی الخصوص اگر آه میرزا باشد ہے گو بظا ہر سب مقربین کی علامات بیان کی ہیں۔مگر بعض اشعار سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنے مقام کے متعلق ہیں اور دوسروں پر اس کی بعض علامات چسپاں نہیں ہو سکتیں۔اسی طرح حقیقۃ الوحی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اس امت کے بعض افراد کو مریم سے تشبیہہ دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ وہ مریم عیسی سے حاملہ ہو گئی، ۱۴ حالانکہ آپ نے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ : اس امت میں بجز میرے کسی نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا۔اور پھر اس مریم میں عیسی کی روح پھونک دی ہے، ۱۵