خطبات محمود (جلد 19) — Page 645
خطبات محمود ۶۴۵ سال ۱۹۳۸ء عِيسَى رُوحُ اللہ وَكَلِمَتُهُ کسی نے کہا عیسی بڑا نبی تھا وہ اللہ کی روح اور اُس کا کلمہ تھا۔قَالَ قَائِلٌ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ اللہ کسی نے کہا ابراہیم بڑا نبی تھا۔وہ خدا کا خلیل اور دوست تھا۔فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَيْنَ الشَّهِيدُبُنَ الشَّهِيدِ يَلْتَبِسُ الْوَبَرَوَ يَأْكُلُ الشَّجَرَ مَخَافَةَ الذَّنْب۔يَحْيَى بْنَ زَكَرِیا ہے یعنی یہ ذکر سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ میں بیٹھ گئے اور آپ نے فرمایا تم ان انبیاء کی فضیلتوں کا ذکر کرتے ہو مگر تم اس شہید کے شہید بیٹے کا کیوں ذکر نہیں کرتے جو ساری عمر گناہ کے خوف سے صوف کے کپڑے پہنتا رہا اور جنگلوں میں رہتا اور پتے کھا کھا کر گزارہ کرتا۔جس کا نام بیچی تھا اور جو ز کریا کا بیٹا تھا۔اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات صحابہ میں بیٹھ کر فرماتے ہیں اسے کون خطا بیات میں سے قرار دے سکتا ہے۔یہاں تو کی نبیوں کی خوبیوں کا بیان ہو رہا تھا۔کوئی حضرت موسیٰ کی خوبیاں بیان کر رہا تھا کوئی حضرت عیسی کی اور کوئی حضرت ابرا ہیم کی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یحیی بن زکریا کا کیوں ذکر نہیں کرتے جو شہیدا بن شہید تھا۔آپ نے اس طرح فرما کر یہ مسئلہ بالکل صاف کر دیا ہے کہ حضرت بیخی واقعہ میں شہید ہوئے تھے۔پھر بیہقی اور ابن عساکر میں حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ان من هوان الدنيا على الله ان يحيى بن زكريا قَتَلَتْهُ امْرَأَةٌ سے میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ دنیا حقیر ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس وجہ سے کہ بیچی زکریا کے بیٹے کو ایک فاحشہ اور بد کار عورت نے قتل کرایا۔یہاں قتل کا لفظ آتا ہے مگر مطلب خود قتل کرنا نہیں بلکہ قتل کرانا ہے۔اسی طرح حاکم میں حضرت عبداللہ بن زیبر سے ایک اسی قسم کی روایت آتی ہے حضرت عبداللہ بن زبیر اپنے وقت کے بعض ظالم بادشاہوں کا مقابلہ کرتے رہے تھے۔اور وہ اسلام میں پہلے مجدد مانے جاتے ہیں۔انہوں نے یزید کا بھی مقابلہ کیا اور اسی طرح بعض اور مظالم کے خلاف بھی آواز بلند کی۔اس مقابلہ میں انہیں بڑے بڑے مصائب پہنچے۔یہاں تک کہ ان کے اپنے کی ساتھی انہیں چھوڑ کر الگ ہو گئے۔اور آخر میں تو یہ صرف اکیلے رہ گئے تھے اور دشمن نے انہیں مار کر پھانسی پر لٹکا دیا تھا جب لوگوں نے انہیں کہا کہ اب تو آپ کے ساتھی بھی آپ کو چھوڑتے